(۶۴۵۵) فِیمَا أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْہَرِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَبِی عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّیْمِیُّ عَنْ سَلْمَانَ الأَغَرِّ مَوْلَی جُہَیْنَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : ((إِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ لَیُبَیِّتُ الْقَوْمَ بِالنِّعْمَۃِ ثُمَّ یُصْبِحُونَ وَأَکْثَرُہُمْ بِہَا کَافِرٌ یَقُولُونَ : مُطِرْنَا بِنَوْئِ کَذَا وَکَذَا))۔
قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ فَحَدَّثْتُ ہَذَا الْحَدِیثُ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ عَنْ سَلْمَانَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ فَقَالَ سَعِیدٌ : نَحْنُ قَدْ سَمِعْنَا ذَاکَ مِنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ وَقَدْ حَدَّثَنِی مَنْ لاَ أَتَّہِمُ أَنَّہُ شَہِدَ ہَذَا الْمُصَلَّی مِنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَہُوَ یَسْتَسْقِی بِالنَّاسِ عَامَ الرَّمَادَۃِ قَالَ فَدَعَا وَالنَّاسُ طَوِیلاً وَاسْتَسْقَی طَوِیلاً وَقَالَ یَا عَبَّاسُ لِلْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ : کَمْ بَقِیَ مِنْ نَوْئِ الثُّرَیَّا؟ فَقَالَ لَہُ الْعَبَّاسُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ إِنَّ أَہْلَ الْعِلْمِ بِہَا یَزْعُمُونَ أَنَّہَا تَعْتَرِضُ بِالأُفُقِ بَعْدَ وُقُوعِہَا سَبْعًا قَالَ : فَوَاللَّہِ مَا مَضَتْ تِلْکَ السَّبْعُ حَتَّی أُغِیثَ النَّاسُ۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ وَجْہُ الْجَمْعِ بَیْنَہُمَا مَا ذَکَرَہُ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ۔ [صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ احمد]
(٦٤٥٥) ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے تھے کہ قوم کو کوئی نعمت رات کے وقت ملتی ہے پھر وہ صبح اس حال میں کرتے ہیں کہ اکثر ان میں سے اس کا انکار کرنے والے ہوتے ہیں اور وہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ ہم فلاں فلاں قسم کی وجہ سے بارش دیے گئے ہیں۔
سعید کہتے ہیں کہ ہم نے یہ بات ابو ہریرہ (رض) سے سنی اور انھوں نے اس سے مجھے حدیث بیان کی جس پر تہمت نہیں لگا سکتا۔ بیشک وہ عمر (رض) بن خطاب کی صلوٰۃ الاستسقاء میں شامل ہوا اور وہ قحط سالی میں لوگوں کیلئے بارش مانگ رہے تھے۔ عمر (رض) اور لوگوں نے بارش کیلئے دیر تک دعا والتجاء کی اور عباس بن عبد المطلب سے کہا : اے عباس ! ” ثریا “ کی فلاں قسم کتنی باقی ہے ؟ انھوں نے کہا : اے امیر المؤمنین ! اہل علم خیال کرتے ہیں، سات دن کے بعد وہ افق کے کناروں سے ہٹ جائے گا۔ راوی کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! وہ سات دن ہی گزرنے پائے تھے لوگوں کو بارش دے دی گئی۔