(۶۴۸۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ حَدَّثَنَا یَزِیدُ ہُوَ ابْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ یَعْنِی التَّیْمِیَّ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : مَا مِنْ عَامٍ بِأَقَلَّ مَطَرًا مِنْ عَامٍ وَلَکِنَّ اللَّہَ تَعَالَی یُصَرِّفُہُ حَیْثُ یَشَائُ ثُمَّ تَلاَ ہَذِہِ الآیَۃَ {وَلَقَدْ صَرَّفْنَاہُ بَیْنَہُمْ لِیَذَّکَّرُوا فَأَبَی أَکْثَرُ النَّاسِ إِلاَّ کُفُورًا} [الفرقان: ۵۰]
(٦٤٨٣) عبداللہ (رض) بن عباس بیان کرتے ہیں کہ کسی ستارے کی وجہ سے بارش کم نہیں ہوتی، لیکن اللہ تعالیٰ اسے پھیرتا ہے جیسے چاہتا ہے۔ پھر اس آیت کی تلاوت کی : { وَلَقَدْ صَرَّفْنَاہُ بَیْنَہُمْ لِیَذَّکَّرُوا ۔۔۔} [الفرقان : ٥٠] (البتہ انھیں ہم پھیرتے ہیں ان کے درمیان تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں لیکن اکثر لوگ ناشکری کرتے ہوئے انکار کرتے ہیں۔ )