(۶۴۹۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُکْرِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ ہُوَ ابْنُ سِیرِینَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((لاَ تَسُبُّوا الدَّہْرَ فَإِنَّ اللَّہَ ہُوَ الدَّہْرُ))۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ ہِشَامِ بْنِ حَسَّانَ وَغَیْرِہِ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ فِی رِوَایَۃِ حَرْمَلَۃَ وَإِنَّمَا تَأْوِیلُہُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ أَنَّ الْعَرَبَ کَانَ شَأْنُہَا أَنْ تَذُمَّ الدَّہْرَ وَتَسُبَّہُ عِنْدَ الْمَصَائِبِ الَّتِی تَنْزِلُ بِہِمْ مِنْ مَوْتٍ أَوْ ہَرَمٍ أَوْ تَلَفٍ أَوْ غَیْرِ ذَلِکَ فَیَقُولُونَ : إِنَّمَا یُہْلِکُنَا الدَّہْرُ وَہُوَ اللَّیْلُ وَالنَّہَارُ وَہُمَا الْفَنَّتَانِ وَالْجَدِیدَانِ فَیَقُولُونَ : أَصَابَتْہُمْ قَوَارِعُ الدَّہْرِ وَأَبَادَہُمُ الدَّہْرُ فَیَجْعَلُونَ اللَّیْلَ وَالنَّہَارَ اللَّذَیْنِ یَفْعَلاَنِ ذَلِکَ فَیَذِمُّونَ الدَّہْرَ فَإِنَّہُ الَّذِی یُفْنِینَا وَیَفْعَلُ بِنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((لاَ تَسُبُّوا الدَّہْرَ))۔ عَلَی أَنَّہُ الَّذِی یُفْنِیکُمْ وَالَّذِی یَفْعَلُ بِکُمْ ہَذِہِ الأَشْیَائَ فَإِنَّکُمْ إِذَا سَبَبْتُمْ فَاعِلَ ہَذِہِ الأَشْیَائِ فَإِنَّمَا تَسُبُّوا اللَّہَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی ، فَإِنَّ اللَّہَ فَاعِلُ ہَذِہِ الأَشْیَائِ ۔
قَالَ الشَّیْخُ وَطُرُقُ ہَذَا الْحَدِیثِ وَمَا حَفِظَ بَعْضُ رُوَاتِہِ مِنَ الزِّیَادِۃِ فِیہِ دَلِیلٌ عَلَی صِحَّۃِ ہَذَا التَّأْوِیلِ۔
[صحیح۔ أخرجہ مسلم]
(٦٤٩١) ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : زمانے کو برا بھلا نہ کہو کیونکہ اللہ ہی زمانہ ہے۔
امام شافعی بیان کرتے ہیں کہ عرب لوگ مصائب کے وقت زمانے کو گالیاں دیا کرتے تھے اور برا بھلا کہتے (یعنی موت، بڑھاپے اور محتاجی کے وقت) اور وہ کہتے کہ ہمیں حوادثات زمانہ ہلاک کردیں گے اور وہ رات ودن ہے اور ان کا نیا اور پرانا ہونا ہے اور وہ کہتے : انھیں زمانے کی سختیاں پہنچی ہیں اور زمانے نے انھیں برباد کردیا ۔ سو اسی رات اور دن سے ہی وقت ہے اس لیے وہ زمانے کو مذموم کہتے کہ یہی ہمیں فنا کرتا ہے اور ہمارے ساتھ ایسے کرتا ہے، سو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا؛ تم زمانے کو گالی نہ دو؛ کیونکہ اس سے مراد تو وہ ہے جو انھیں چلاتا ہے اور پھیرتا ہے اور جب تم ان اسباب کو گالی دیتے ہو تو یہ اس کے خالق وصانع کو گالی دینا ہے۔ سو تم اللہ تعالیٰ کو گالی دیتے ہو ؛کیونکہ وہی صانع و خالق ہے اور یہ سب اسی کے اختیار میں ہے۔