(۶۵۳۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَیْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ یَعْنِی ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَإِذَا ہُوَ یُوعَکُ فَمَسِسْتُہُ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّکَ لَتُوعَکُ وَعْکًا شَدِیدًا۔ قَالَ : ((أَجَلْ إِنِّی أُوعَکُ کَمَا یُوعَکُ رَجُلاَنِ مِنْکُمْ))۔ قَالَ قُلْتُ : لأَنَّ لَکَ أَجْرَیْنِ۔ قَالَ : ((نَعَمْ وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ مَا عَلَی الأَرْضِ مُسْلِمٌ یُصِیبُہُ أَذًی مِنْ مَرَضٍ فَمَا سِوَاہُ إِلاَّ حَطَّ اللَّہُ عَنْہُ خَطَایَاہُ کَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَۃُ وَرَقَہَا))۔ [صحیح۔ بخاری]
(٦٥٣١) عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس داخل ہوا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بخار میں تھے میں نے آپ کے جسم کو ہاتھ لگایا تو میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! آپ کو بہت سخت بخار ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :” ہاں مجھے تمہارے دو آدمیوں جتنا بخار ہوتا ہے۔ ابن مسعود نے کہا : اس وجہ سے کہ آپ کیلئے دو اجر ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں ” مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جس قدر اس روئے زمین پر مسلمان ہیں جب انھیں کوئی بیماری یا تکلیف پہنچتی ہے یا اس کے علاوہ کچھ تو اللہ تعالیٰ اس کے عوض اس کی خطائیں مٹا دیتا ہے جس طرح درخت کے پتے گرتے ہیں۔