(۶۵۴۲) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ دُحَیْمٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ أَخْبَرَنَا أَبُو غَسَّانَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْوَاسِطِیُّ أَخْبَرَنَا وَاصِلٌ مَوْلَی أَبِی عُیَیْنَۃَ عَنْ بَشَّارِ بْنِ أَبِی سَیْفٍ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عِیَاضِ بْنِ غُطَیْفٍ قَالَ : أَتَیْنَا أَبَا عُبَیْدَۃَ نَعُودُہُ وَعِنْدَہُ امْرَأَتُہُ تُحَیْفَۃُ قَالَ فَقُلْنَا : کَیْفَ بَاتَ؟ قَالَتْ : بَاتَ بِأَجْرٍ۔ قَالَ أَبُو عُبَیْدَۃَ : مَا بِتُّ بِأَجْرٍ قَالَ : فَسَکَتَ الْقَوْمُ فَقَالَ : أَلاَ تَسْأَلُونِی عَنِ الْکَلِمَۃِ قَالُوا : مَا أَعْجَبَنَا مَا قُلْتَ فَنَسْأَلُکَ؟ قَالَ إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : ((مَنْ أَنْفَقَ نَفَقَۃً فَاضِلَۃً فِی سَبِیلِ اللَّہِ فَبِسَبْعِمِائَۃٍ ، وَمَنْ أَنْفَقَ نَفَقَۃً عَلَی أَہْلِہِ أَوْ أَمَازَ أَذًی عَنْ طَرِیقٍ فَالْحَسَنَۃُ عَشْرُ أَمْثَالِہَا ، وَالصَّوْمُ جُنَّۃٌ مَا لَمْ یَخْرِقْہَا ، وَمَنِ ابْتَلاَہُ اللَّہُ بِبَلاَئٍ فِی جَسَدِہِ فَلَہُ بِہِ حِطَّۃُ خَطِیئَۃِ))۔ قَالَ خَالِدٌ یَعْنِی تُحَطُّ ذُنُوبُہُ۔ [ضعیف۔ أخرجہ احمد]
(٦٥٤٢) عیاض بن غطیف بیان کرتے ہیں کہ ہم ابو عبیدہ (رض) کی عیادت کیلئے آئے تو ان کے پاس ان کی بیوی تھی۔ ہم نے اس سے پوچھا : اس نے رات کیسے گزاری ہے ؟ تو اس نے کہا : اجر کے ساتھ۔ ابو عبیدہ (رض) نے کہا : کیسے اجر کے ساتھ رات گزاری ہے تو قوم خاموش ہوگئی ۔ انھوں نے کہا : کیا تم ان سے اس بارے میں نہیں پوچھو گے تو انھوں نے کہا : جو تو نے کہا ہے اس نے ہمیں تعجب میں نہیں ڈالا مگر ہم آپ سے پوچھتے ہیں تو انھوں نے کہا : میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ فرماتے تھے : جس نے اضافی درہم دینار اللہ کی راہ میں خرچ کیا تو وہ سات سو گناہ تک بڑھا دیا جاتا ہے اور جس نے ایک درہم اپنے اہل پر خرچ کیا یا پھر راستے سے تکلیف دینے والی چیز کو ہٹایا تو یہ ایک نیکی دس نیکیوں کے برابر ہے اور روزہ ڈھال ہے جب تک وہ اسے پھاڑتا ہے نہیں اور جس کسی کو اللہ تعالیٰ نے اس کے جسم کی بیماری سے آزمایا اس کے عوض بھی اس کے گناہ مٹائے جائیں گے۔