(۶۵۵۰) حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْہَرِ السَّلِیطِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یُوسُفَ عَنْ سُفْیَانَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی سُفْیَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ : جَائَ تِ الْحُمَّی تَسْتَأْذِنُ عَلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ : مَنْ أَنْتِ؟ ۔ قَالَتِ : الْحُمَّی قَالَ : ((أَتَعْرِفِینَ أَہْلَ قُبَائَ؟))۔ قَالَتْ : نَعَمْ قَالَ : اذْہَبِی إِلَیْہِمْ ۔ فَذَہَبَتْ إِلَیْہِمْ فَلَقُوا مِنْہَا شِدَّۃً فَشَکَوْا ذَلِکَ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ : ((إِنْ شِئْتُمْ دَعَوْتُ اللَّہَ فَکَشَفَہَا عَنْکُمْ ، وَإِنْ شِئْتُمْ کَانَتْ کَفَّارَۃً وَطَہُورًا ۔ فَقَالَ : بَلْ تَکُونُ کَفَّارَۃً وَطَہُورًا؟))۔ [منکر۔ ابن حبان]
(٦٥٥٠) حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ بخار نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور اجازت چاہی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو کون ہے ؟ تو اس نے کہا : میں بخار ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تو اہل قباء کو جانتا ہے ؟ تو اس نے کہا : جی ہاں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو ان کی طرف جا تو وہ ان کی طرف چلا گیا ۔ انھوں نے اس کی سختی کو محسوس کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شکایت کی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر چاہتے ہو تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ تم سے اسے دور کر دے گا۔ اگر چاہو تو وہ تمہارے لیے طہور اور گناہوں کا کفارہ بن جائے گا تو انھوں نے کہا : بلکہ کفارہ اور پاکیزگی کا باعث اچھا ہے۔