(۶۵۷۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِی عِیسَی وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَفْصِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِیسَی أَخْبَرَنِی مَالِکٌ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ عَنْ مَالِکٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَۃَ الدُّؤَلِیِّ عَنْ مَعْبَدِ بْنِ کَعْبٍ عَنْ أَبِی قَتَادَۃَ بْنِ رِبْعِیٍّ قَالَ : مَرَّ بِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- جَنَازَۃٌ فَقَالَ : ((مُسْتَرِیحٌ وَمُسْتَرَاحٌ مِنْہُ))۔ قَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا الْمُسْتَرِیحُ وَمَا الْمُسْتَرَاحُ مِنْہُ؟ قَالَ : ((الْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ یَسْتَرِیحُ مِنْ نَصَبِ الدُّنْیَا وَأَذَاہَا إِلَی رَحْمَۃِ اللَّہِ ، وَالْعَبْدُ الْفَاجِرُ یَسْتَرِیحُ مِنْہُ الْعِبَادُ وَالْبِلاَدُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ))۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی أُوَیْسٍ عَنْ مَالِکٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَیْبَۃَ۔ [صحیح۔ البخاری]
(٦٥٧٤) ابو قتادہ بن ربعی بیان کرتے ہیں کہ آپ کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” مُسْتَرِیْحٌ ومُسْتَراحَ مَنْہُ “ تو انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! مستریح اور مستراح منہ کیا ہے ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مومن بندہ دنیا کے مصائب و تکالیف سے آرام پاتا ہے اور اللہ کی رحمت حاصل کرتا ہے اور جو گناہ گار ہے اس سے لوگ ، شہر، درخت اور جاندار آرام پاتے ہیں۔