(۶۵۹۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَارْیَابِیُّ قَالَ وَأَخْبَرَنِی الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ النَّسَوِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ عَنْ مَالِکٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّہَا قَالَتْ : لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- الْمَدِینَۃَ وُعِکَ أَبُو بَکْرٍ وَبِلاَلٌ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَتْ فَدَخَلْتُ عَلَیْہِمَا فَقُلْتُ : یَا أَبَتِ کَیْفَ تَجِدُکَ؟ وَقُلْتُ لِبِلاَلٍ کَیْفَ تَجِدُکَ؟ قَالَتْ : وَکَانَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِذَا أَخَذَتْہُ الْحُمَّی یَقُولُ:
کُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِی أَہْلِہِ
وَالْمَوْتُ أَدْنَی مِنْ شِرَاکِ نَعْلِہِ
وَکَانَ بِلاَلٌ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِذَا أَقْلَعَتْ عَنْہُ یَقُولُ :
أَلاَ لَیْتَ شِعْرِی ہَلْ أَبِیتَنَّ لَیْلَۃً
بِوَادٍ وَحَوْلِی إِذْخِرٌ وَجَلِیلُ
وَہَلْ أَرِدَنْ یَوْمًا مِیَاہَ مَجَنَّۃٍ
وَہَلْ یَبْدُوَنْ لِی شَامَۃٌ وَطَفِیلُ
قَالَتْ عَائِشَۃُ : فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَأَخْبَرْتُہُ فَقَالَ : ((اللَّہُمَّ حَبِّبْ إِلَیْنَا الْمَدِینَۃَ کَحُبِّنَا مَکَّۃَ أَوْ أَشَدَّ وَصَحِّحْہَا وَبَارِکْ لَنَا فِی صَاعِہَا وَمُدِّہَا وَانْقُلْ حُمَّاہَا فَاجْعَلْہَا بِالْجُحْفَۃِ))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ۔ [صحیح۔ البخاری]
(٦٥٩٤) عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ آئے تو ابوبکر (رض) اور بلال (رض) کو بخار نے آلیا۔ وہ کہتی ہیں : میں ان کے پاس آئی تو میں نے پوچھا : ابا جان ! آپ کیسا محسوس کرتے ہیں اپنے کو اور میں نے بلال سے کہا کہ تم اپنے کو کیسا محسوس کرتے ہو اور وہ کہتی ہیں : جب ابوبکر (رض) کو بخار ہوتا تو کہتے : ” ہر شخص اپنے اہل میں صبح کرنے والا ہے اور موت اس کے جوتے کے تسمے سے بھی قریب ہے اور بلال (رض) جب اکتا جاتے تو کہتے : کیا میں ایک رات ایسی وادی میں گزاروں گا، جہاں میرے ارد گراز خر اور جلیل ہوں گے ۔ کیا کبھی ہم مجنہ کے چشموں پر وارد ہوں گے، کیا میرے سامنے شامہ وطفیل ظاہر ہوں گے۔ سیدہ کہتی ہیں : میں پیارے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی اور خبر دی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے اللہ ! ہمارے لیے مدینے کو محبوب بنا دے جیسے ہمیں مکہ محبوب ہے یا اس سے بھی زیادہ اور اس کی آب وہوا کو درست کر دے اور اس کے صاع ومد میں برکت ڈال دے اور اس کے بخار کو حجفہ منتقل کر دے۔