hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 662

.

سنن البيهقي

662
Sunan Al Bayhaqi
(۶۶۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی صَدَقَۃُ بْنُ یَسَارٍ عَنْ عَقِیلِ بْنِ جَابِرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی غَزْوَۃِ ذَاتِ الرِّقَاعِ مِنْ نَخْلٍ ، فَأَصَابَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ امْرَأَۃَ رَجُلٍ مِنَ الْمُشْرِکِینَ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- قَافِلاً أَتَی زَوْجُہَا وَکَانَ غَائِبًا ، فَلَمَّا أُخْبِرَ الْخَبَرَ حَلَفَ لاَ یَنْتَہِی حَتَّی یُہَرِیقُ فِی أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ دَمًا ، فَخَرَجَ یَتْبَعُ أَثَرَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مَنْزِلاً فَقَالَ : ((مَنْ رَجُلٌ یَکْلَؤُنَا لَیْلَتَنَا ہَذِہِ؟))۔ فَانْتَدَبَ رَجُلٌ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ وَرَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالاَ : نَحْنُ یَا رَسُولَ اللَّہِ۔ قَالَ : فَکُونَا بِفَمِ الشِّعْبِ ۔ فَلَمَّا أَنْ خَرَجَا إِلَی فَمِ الشِّعْبِ قَالَ الأَنْصَارِیُّ لِلْمُہَاجِرِیِّ : أَیُّ اللَّیْلِ أَحَبُّ إِلَیْکَ أَنْ أَکْفِیَکَہُ أَوَّلَہُ أَوْ آخِرَہُ؟ قَالَ : بَلْ اکْفِنِی أَوَّلَہُ۔ فَاضْطَجَعَ الْمُہَاجِرِیُّ فَنَامَ ، وَقَامَ الأَنْصَارِیُّ یُصَلِّی ، وَأَتَی زَوْجُ الْمَرْأَۃِ فَلَمَّا رَأَی شَخْصَ الرَّجُلِ عَرَفَ أَنَّہُ رَبِیئَۃُ الْقَوْمِ فَرَمَاہُ بِسَہْمٍ ، فَوَضَعَہُ فِیہِ فَنَزَعَہُ فَوَضَعَہُ ، وَثَبَتَ قَائِمًا یُصَلِّی ، ثُمَّ رَمَاہُ بِسَہْمٍ آخَرَ فَوَضَعَہُ فِیہِ ، فَنَزَعَہُ فَوَضَعَہُ ، وَثَبَتَ قَائِمًا یُصَلِّی ثُمَّ عَادَ لَہُ الثَّالِثَۃَ فَوَضَعَہُ فِیہِ ، فَنَزَعَہُ فَوَضَعَہُ ، ثُمَّ رَکَعَ فَسَجَدَ ثُمَّ أَہَبَّ صَاحِبَہُ فَقَالَ : اجْلِسْ فَقَدْ أُتِیتَ۔ فَوَثَبَ فَلَمَّا رَآہُمَا الرَّجُلُ عَرَفَ أَنَّہُ قَدْ نَذِرَا بِہِ فَہَرَبَ ، فَلَمَّا رَأَی الْمُہَاجِرِیُّ مَا بِالأَنْصَارِیِّ مِنَ الدِّمَائِ قَالَ : سَبْحَانَ اللَّہِ أَفَلاَ أَہْبَبْتَنِی أَوَّلَ مَا رَمَاکَ؟ قَالَ : کُنْتُ فِی سُورَۃٍ أَقْرَأُہَا ، فَلَمْ أُحِبَّ أَنْ أَقْطَعَہَا حَتَّی أُنْفِدَہَا ، فَلَمَّا تَابَعَ عَلَیَّ الرَّمْیَ رَکَعْتُ فَآذَنْتُکَ ، وَایْمُ اللَّہِ لَوْلاَ أَنْ أُضِیعَ ثَغْرًا أَمَرَنِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِحِفْظِہِ لَقُطِعَ نَفْسِی قَبْلَ أَنْ أَقْطَعَہَا أَوْ أُنْفِدَہَا۔ [ضعیف۔ أخرجہ ابو داؤد ۱۹۸]
(٦٦٣) سیدنا جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ غزوہ ذات الرقاع میں کھجوروں کے موسم میں نکلے تو ایک مسلمان کسی مشرکہ عورت پر واقع ہوا ، جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپسی کے لیے چلے تو اس عورت کا خاوند آیا اور وہ صحابی غائب تھا، جب اس کو خبر ہوئی تو اس نے قسم اٹھائی کہ وہ تب تک چین سے نہیں بیٹھے گا جب تک اصحاب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں خون ریزی نہ کرلے، پھر وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نشانات قدم کے پیچھے پیچھے چلا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک جگہ پڑاؤ ڈالا اور کہا : آج رات ہماری پہرے داری کون کرے گا ؟ ایک مہاجر اور ایک انصار کھڑے ہوئے اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! ہم (یہ کام کریں گے) ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” دونوں وادی کے شروع میں چلے جاؤ۔ جب وہ وادی کے شروع والے حصے میں جانے کے لیے نکلے تو ایک انصاری نے مہاجر سے کہا : تجھے رات میں کون سا حصہ پسند ہے، یعنی تو رات کے ابتدائی حصے میں سوئے گا یا آخری میں۔ تاکہ میں تیری طرف سے پہرے داری کروں۔ انصاری نے کہا : رات کے ابتدائی حصے میں۔ مہاجر لیٹ کر سو گیا، انصاری نے کھڑے ہو کر نماز شروع کردی۔ اس عورت کا خاوند آیا اس نے دیکھا کہ محافظ ہے تو اس نے تیر پھینکا جو اس کے جسم میں پیوست ہوگیا، انصاری نے کھینچ کر نکل دیا اور اپنی جگہ کھڑے نماز جاری رکھی، اس نے دوسرا تیر پھینکا، وہ بھی جسم میں پوست ہوگیا، انصاری نے کھینچ کر نکال دیا اور نماز جاری رکھی، تیسری مرتبہ پھر ایسا ہوا پھر اس نے رکوع و سجود کیا، پھر اپنے ساتھی کو بیدار کیا اور کہا : اٹھ بیٹھ اب تیری باری ہے تو وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ جب آدمی نے دونوں کو دیکھا تو وہ سمجھ گیا کہ وہ چوکنے ہوگئے ہیں تو وہ دوڑ گیا، جب مہاجر نے انصاری کے خون کو دیکھا تو کہا : سبحان اللہ ! تو نے مجھے تیر لگنے کے بعد کیوں نہ اٹھا دیا ؟ انصاری نے کہا : میں ایسی سورت پڑھ رہا تھا کہ میں نے ناپسند کیا کہ اسے مکمل کرنے سے پہلے روک دوں، جب اس نے مجھ پر مسلسل تیر پھینکے تو میں نے نماز مکمل کی اور تجھے بتلایا۔ اللہ کی قسم ! اگر مجھے پہرے کے ضائع ہونے کا ڈر نہ ہوتا جس کی حفاظت کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے حکم دیا تھا تو اس سورت کے مکمل کرنے سے پہلے میری جان بھی چلی جاتی تو مجھے پروا نہ تھی۔