(۶۶۲۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَۃَ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُودَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحِیمِ بْنُ مُطَرِّفٍ الرُّؤَاسِیُّ أَبُو سُفْیَانَ وَأَحْمَدُ بْنُ جَنَابٍ قَالُوا حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عُثْمَانَ الْبَلَوِیُّ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ سَعِیدٍ الأَنْصَارِیِّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ حَصِینِ بْنِ وَحْوَحَ : أَنَّ طَلْحَۃَ بْنَ الْبَرَائِ مَرِضَ فَأَتَاہُ النَّبِیُّ -ﷺ- یَعُودُہ فَقَالَ: ((إِنِّی لاَ أَرَی طَلْحَۃَ إِلاَّ قَدْ حَدَثَ بِہِ الْمَوْتُ فَآذِنُونِی بِہِ حَتَّی أَشْہَدَہُ وَأُصَلِّی عَلَیْہِ ، وَعَجِّلُوہُ فَإِنَّہُ لاَ یَنْبَغِی لِجِیفَۃِ مُسْلِمٍ أَنْ تُحْبَسَ بَیْنَ ظَہْرَانَیِ أَہْلِہِ))۔ لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی عَبْدِاللَّہِ۔ وَکَذَا قَالَہُ عَمْرُو بْنُ زُرَارَۃَ وَقِیلَ عُمَرُ بْنُ زُرَارَۃَ۔ وَرُوِیَ فِی الاِسْتِینَائِ بِالْغَرِیقِ حَدِیثٌ مَرْفُوعٌ لاَ یَثْبُتُ مِثْلُہُ۔ وَرُوِیَ عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِیِّ فِی الاِسْتِینَائِ بِالْمَصْعُوقِ۔ وَکَانَ الشَّافِعِیُّ یَسْتَحِبُّ ذَلِکَ حَتَّی یَتَبَیَّنَ مَوْتُہُ۔ [ضعیف۔ ابو داؤد]
(٦٦٢٠) حصین بن وحوح بیان کرتے ہیں کہ طلحہ بن براء بیمار ہوگئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی تیمار داری کیلئے آئے ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نہیں دیکھتا طلحہ کو مگر یہ کہ اس پر موت ظاہر ہوچکی ہے۔ سو تم مجھے اس کی اطلاع کرنا تاکہ میں آ کر اس کی نماز جنازہ ادا کروں اور اس کیلئے جلدی کرنا کیونکہ کسی بھی مسلمان میت کیلئے جائز نہیں کہ اس کو اس کے اہل میں زیادہ دیر تک رکھا جائے۔