(۶۶۶۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَۃَ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ یَحْیَی بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : لَوْ کُنْتُ اسْتَقْبَلْتُ مِنَ الأَمْرِ مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا غَسَّلَ النَّبِیَّ -ﷺ- غَیْرُ نِسَائِہِ۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ فَتَلَہَّفَتْ عَلَی ذَلِکَ وَلاَ یُتَلَہَّفُ إِلاَّ عَلَی مَا یَجُوزُ۔ [حسن۔ أخرجہ ابن ماجہ]
(٦٦٦٥) حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ اگر میں کسی بات کا استقبال (قبول) کرتی ہوں تو اس سے پیچھے نہیں ہٹتی ۔ نہیں غسل دیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویوں کے علاوہ کسی نے۔
شیخ کہتے ہیں کہ انھوں نے اس پر قسم اٹھائی اور قسم صرف اس بات پر اٹھائی جاتی ہے جو درست ہو۔