(۶۶۶۷) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَبِی سِنَانٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ إِنَّ أَبِی مَاتَ نَصْرَانِیًّا فَقَالَ : اغْسِلْہُ وَکَفِّنْہُ وَحَنِّطْہُ ، ثُمَّ ادْفِنْہُ ، ثُمَّ قَالَ {مَا کَانَ لِلنَّبِیِّ وَالَّذِینَ آمَنُوا أَنْ یَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِکِینَ وَلَوْ کَانُوا أُولِی قُرْبَی} [التوبۃ: ۱۱۳] الآیَۃَ۔ [صحیح۔ النسائی]
(٦٦٦٧) سعد بن جبیر کہتے ہیں ـ؛ایک آدمی عبداللہ بن عباس کے پاس آیا اور کہا کہ میرے والد نصرانیت پر فوت ہوگئے۔ فرمایا : اسے خوشبو لگا پھر اسے دفن کر دے۔ پھر : کہا { مَا کَانَ لِلنَّبِیِّ وَالَّذِینَ آمَنُوا أَنْ یَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِکِینَ وَلَوْ کَانُوا أُولِی قُرْبَی }[التوبۃ : ١١٣] کہ نہیں ہے لائق نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اور نہ ہ یاہل ایمان کو کہ وہ استغفار کریں مشرکین کیلئے اگرچہ وہ ان کے قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں “۔