(۶۷۰۸) أَخْبَرَنَا الإِمَامُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الشُّرَیْحِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِیُّ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَیْدٍ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَسْلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أُمَیَّۃَ عَنْ نَافِعٍ قَالَ : مَاتَ سَعِیدُ بْنُ زَیْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَیْلٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَکَانَ بَدْرِیًّا فَقَالَتْ أُمُّ سَعِیدٍ لِعَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَتُحَنِّطُہُ بِالْمِسْکِ فَقَالَ: وَأَیُّ طِیبٍ أُطْیَبُ مِنَ الْمِسْکِ ہَاتِی مِسْکَکِ فَنَاوَلَتْہُ إِیَّاہُ قَالَ وَلَمْ یَکُنْ یُصْنَعُ کَمَا تَصْنَعُونَ وَکُنَّا نَتَتَبَّعُ بِحَنُوطِہِ مَرَاقَّہُ وَمَغَابِنَہُ۔ [ضعیف جداً]
(٦٧٠٨) حضرت نافع (رض) کہتے ہیں : سعید بن زید فوت ہوگئے اور وہ بدری صحابی تھے۔ ام سعید نے عبداللہ بن عمر (رض) سے کہا : کیا تم کستوری کی خوشبو لگاؤ گے ؟ تو انھوں نے کہا : اور کونسی خوشبو کستوری سے بہتر ہے۔ تم اپنی کستوری لاؤ تو انھوں نے وہ پکڑا دی تو راوی نے کہا : آج جیسے تم کرتے ہو ایسے نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ہم خوشبو بغلوں اور مانگ وغیرہ میں لگاتے تھے۔