(۶۷۲۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ : لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مَرَضَہُ الَّذِی قُبِضَ فِیہِ أَسْنَدَتْہُ فَاطِمَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا إِلَی صَدْرِہَا فَجَعَلَ یَتَغَشَّاہُ الْکَرْبُ فَقَالَتْ : وَاکَرْبَ أَبَتَاہُ فَقَالَ : ((إِنَّہُ لَیْسَ عَلَی أَبِیکِ کَرْبٌ بَعْدَ الْیَوْمِ))۔ فَلَمَّا قُبِضَ وَدُفِنَ قَالَتْ لِی فَاطِمَۃُ : یَا أَنَسَ أَطَابَتْ أَنْفُسُکُمْ أَنْ تَحْثُوا عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔ قَالَ حَمَّادٌ إِنَّمَا حَفِظَ أَطَابَتْ أَنْفُسُکُمْ أَنْ تَحْثُوا۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ عَنْ حَمَّادٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری]
(٦٧٢٨) انس (رض) سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ اس مرض میں بیمار ہوئے جس میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت ہوگئے ۔ سیدہ فاطمہ (رض) نے اپنے سینے سے ان کی ٹیک لگائی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بےہوشیاں طاری ہوگئیں اور فاطمہ (رض) نے کہنا شروع کردیا : ” ہائے ! میرے ابا جان کو کتنی تکلیف ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ا :ٓج کے بعد آپ کے ابا جان کو کوئی تکلیف نہیں ہوگی ۔ سو جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت ہوگئے اور دفن کردیے گئے تو مجھے فاطمہ نے کہا : اے انس ! کیا تمہارے دلوں نے پسند کرلیا کہ تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر مٹی ڈالو۔