(۶۷۳۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو وَأَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِی الْفَوَارِسِ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَۃَ الدِّمَشْقِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَہْبِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ ثُمَامَۃَ بْنِ شُفَیٍّ قَالَ : خَرَجْنَا غُزَاۃً فِی زَمَنِ مُعَاوِیَۃَ إِلَی ہَذِہِ الدُّرُوبِ وَعَلَیْنَا فَضَالَۃُ بْنُ عُبَیْدٍ فَتُوُفِّیَ ابْنُ عَمٍّ لِی یُقَالُ لَہُ نَافِعُ بْنُ عَبْدٍ قَالَ فَقَامَ فَضَالَۃُ فِی حُفْرَتِہِ فَلَمَّا دَفَنَّاہُ قَالَ : خَفِّفُوا عَنْہُ التُّرَابَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ یَأْمُرُنَا بِتَسْوِیَۃِ الْقُبُورِ۔ [حسن۔ أخرجہ احمد]
(٦٧٣٨) ثمامہ بن شفی کہتے ہیں : ہم معاویہ (رض) کے دور میں ایک غزوے پر نکلے ۔ ان صحراؤں کی طرف اور فضالہ بن عبید ہم پر عامل تھے۔ میرے چچا کا بیٹا فوت ہوگیا جسے نافع بن عبد کہا جاتا تھا، وہ کہتے ہیں : فضالہ اس کی قبر پر کھڑے ہوئے ۔ جب اسے ہم نے دفن کرلیا تو کہا : اس سے مٹی کم کرو کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں قبریں برابر کرنے کا حکم دیا کرتے تھے۔