(۶۷۴۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصِّدِّیقِ الْمَعْرُوفُ بِخُشْنَامَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَزِیدَ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا حَیْوَۃُ بْنُ شُرَیْحٍ حَدَّثَنِی أَبُو صَخْرٍ عَنْ یَزِیدَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ قُسَیْطٍ أَنَّہُ حَدَّثَہُ أَنَّ دَاوُدَ بْنَ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ حَدَّثَہُ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّہُ کَانَ قَاعِدًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ إِذْ طَلَعَ خَبَّابٌ صَاحِبُ الْمَقْصُورَۃِ فَقَالَ : یَا عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ أَلاَ تَسْمَعُ مَا یَقُولُ أَبُو ہُرَیْرَۃَ إِنَّہُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : ((مَنْ خَرَجَ مَعَ جَنَازَۃٍ مِنْ بَیْتِہَا فَصَلَّی عَلَیْہَا ، ثُمَّ تَبِعَہَا حَتَّی تُدْفَنَ کَانَ لَہُ قِیرَاطَانِ مِنَ الأَجْرِ ، وَمَنْ صَلَّی عَلَیْہَا ثُمَّ رَجَعَ کَانَ لَہُ قِیرَاطٌ مِنَ الأَجْرِ مِثْلُ أُحُدٍ))۔ فَأَرْسَلَ ابْنُ عُمَرَ خَبَّابًا إِلَی عَائِشَۃَ یَسْأَلُہَا عَنْ قَوْلِ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، ثُمَّ یَرْجِعُ إِلَیْہِ فَیُخْبِرُہُ بِمَا قَالَتْ عَائِشَۃُ فَأَخَذَ ابْنُ عُمَرَ قُبْضَۃً مِنْ حَصَاۃِ الْمَسْجِدِ یُقَلِّبُہَا فِی یَدَہِ حَتَّی یَرْجِعَ إِلَیْہِ الرَّسُولُ قَالَ فَقَالَتْ عَائِشَۃُ : صَدَقَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ۔ فَضَرَبَ ابْنُ عُمَرَ بِالْحَصَی الَّذِی کَانَ فِی یَدَہِ الأَرْضَ ثُمَّ قَالَ : لَقَدْ فَرَّطْنَا فِی قَرَارِیطٍ کَثِیرَۃٍ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ عَنِ الْمُقْرِئِ ۔
فَأَکْثَرُ الرِّوَایَاتِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَلَی الْفَرَاغِ وَالدَّفْنِ إِلاَّ مَا رُوِّینَا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ وَقَدْ خَالَفَہُ عَبْدُ الأَعْلَی بْنُ عَبْدِ الأَعْلَی عَنْ مَعْمَرٍ وَرُوِیَ مِثْلُ مَعْنَی رِوَایَۃِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ۔
[صحیح۔ أخرجہ المسلم]
(٦٧٤٨) حضرت ابو ہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے : جو کوئی جنازے کے ساتھ اس کے گھر سے چلا ۔ پھر اس کی نماز جنازہ ادا کی۔ پھر اس کے ساتھ رہا حتیٰ کہ اسے دفن کردیا گیا ۔ اس کے لیے اجر وثواب کے دو قیراط ہوں گے اور جس نے جنازہ پڑھا اور پلٹ آیا تو اس کیلئے ایک قیراط ہے جو احد پہاڑ کی مانند ہے۔ پھر ابن عمر نے خباب (رض) کو بھیجا کہ سیدہ عائشہ (رض) سے ابو ہریرہ (رض) کی بات کے متعلق پوچھ کر آئے تو سیدہ عائشہ (رض) نے فرمایا : انھوں نے سچ کہا ہے تو ابن عمر نے کہا : ہم نے اپنے لیے بہت سے قیراط کی کمی کی۔
ابوہریرہ (رض) کی اکثر روایات دفن سے فارغ ہونے کی ہیں۔