hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 6761

.

سنن البيهقي

6761
Sunan Al Bayhaqi
(۶۷۶۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ حَدَّثَنَا حِبَّانُ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ عَنْ سُفْیَانَ التَّمَّارِ : أَنَّہُ حَدَّثَہُ أَنَّہُ رَأَی قَبْرَ النَّبِیِّ -ﷺ- مُسَنَّمًا۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُقَاتِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُبَارَکِ۔ وَمَتَی مَا صَحَّتْ رِوَایَۃُ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ : قُبُورُہُمْ مَبْطُوحَۃٌ بِبَطْحَائِ الْعَرْصَۃِ۔ فَذَلِکَ یَدُلُّ عَلَی التَّسْطِیحِ وَصَحَّتْ رُؤْیَۃُ سُفْیَانَ التَّمَّارِ قَبْرَ النَّبِیِّ -ﷺ- مُسَنَّمًا فَکَأَنَّہُ غُیِّرَ عَمَّا کَانَ عَلَیْہِ فِی الْقَدِیمِ فَقَدْ سَقَطَ جِدَارُہُ فِی زَمَنِ الْوَلِیدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِکِ ، وَقِیلَ فِی زَمَنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ ، ثُمَّ أُصْلِحَ ، وَحَدِیثُ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ فِی ہَذَا الْبَابِ أَصَحُّ وَأَوْلَی أَنْ یَکُونَ مَحْفُوظًا۔ إِلاَّ أَنَّ بَعْضَ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِنَا اسْتَحَبَّ التَّسْنِیمَ فِی ہَذَا الزَّمَانِ لِکَوْنِہِ جَائِزًا بِالإِجْمَاعِ وَأَنَّ التَّسْطِیحَ صَارَ شِعَارًا لأَہْلِ الْبِدَعِ فَلاَ یَکُونُ سَبَبًا لإِطَالَۃِ الأَلْسِنَۃِ فِیہِ وَرَمْیِہِ بِمَا ہُوَ مُنَزَّہٌ عَنْہُ مِنْ مَذَاہِبِ أَہْلِ الْبِدَعِ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [صحیح۔ البخاری]
(٦٧٦١) سفیان تمار بیان کرتے ہیں کہ اس نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر مبارک کو اونٹ کی کوہان کی مانند دیکھا۔
عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں کہ تب تو محمد بن قاسم کی حدیث درست ہوئی کہ ان کی قبریں بطحاء عرصہ کی طرح بچھی ہوئی تھیں اور سفیان تمار کا قبر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھنا درست ہوا کہ وہ کوہان تھا گویا کہ لمبا عرصہ گزرنے سے تبدیل ہوگئی ۔
ولیدبن عبد الملک کے دور میں اس کی دیوار گرگئی تھی بعض نے عمر بن عبد العزیز کے دور میں کہا۔ پھر اسے درست کیا گیا۔
اس باب میں قاسم بن محمد کی حدیث صحیح ہے مگر بعض اہل علم صحابہ میں سے اس زمانے میں کوہان نما بنانے کو جائز قرار دیتے ہیں اجماع کے ساتھ اور جو برابر جاتا ہے ، وہ اہل بدعت کی علامت (نشانی) بن چکی ہے اور وہ اہل بدعت کے مذہب سے بہتر ہے ابو موسیٰ کی وصیت میں بیان کیا گیا ہے کہ میری قبر پر عمار نہ بنانا اور ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں : مجھ پر خیمہ نہ لگانا اور ابوہریرہ (رض) بھی اسی طرح ہے۔