(۶۸۰۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِی عَنْ مِقْسَمٍ وَقَدْ أَدْرَکَہُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : صَلَّی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَلَی حَمْزَۃَ فَکَبَّرَ عَلَیْہِ سَبْعَ تَکْبِیرَاتٍ وَلَمْ یُؤْتَ بِقَتِیلٍ إِلاَّ صَلَّی عَلَیْہِ مَعَہُ حَتَّی صَلَّی عَلَیْہِ اثْنَتَیْنِ وَسَبْعِینَ صَلاَۃً۔
وَہَذَا ضَعِیفٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ یَسَارٍ إِذَا لَمْ یَذْکُرِ اسْمُ مَنْ حَدَّثَ عَنْہُ لَمْ یُفْرَحُ بِہِ۔
وَرَوَاہُ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَۃَ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- صَلَّی عَلَی قَتْلَی أُحُدٍ۔ وَالْحَسَنُ بْنُ عُمَارَۃَ ضَعِیفٌ لاَ یُحْتَّجُّ بِرِوَایَتِہِ۔ [منکر۔ ابن ابی شیبۃ]
(٦٨٠٧) حضرت ابن عباس کہتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حمزہ کی نماز جنازہ پڑھی ۔ اس پر سات تکبیرات پڑھیں ۔ نہیں لایا گیا کسی بھی مقتول کو مگر حمزہ (رض) اس کے ساتھ ہوتے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جنازہ پڑھتے۔ یہاں تک کہ ان کے بہتر (٧٢) جنازے پڑھے۔
حسن بن عمارہ حکم سے اور وہ مقسم سے اور وہ ابن عباس (رض) سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے احد کے مقتولین کا جنازہ پڑھا۔ مگر حسن بن عمارہ ضعیف ہے اس کی حدیث کو حجت نہیں بنایا جاسکتا۔