(۶۸۲۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ حَدَّثَنَا سَعِیدٌ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا أَیُّوبُ عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَی أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِی بَکْرٍ بَعْدَ قَتْلِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الزُّبَیْرِ قَالَ وَجَائَ کِتَابُ عَبْدِ الْمَلِکِ : أَنْ یُدْفَعَ إِلَی أَہْلِہِ فَأَتَیْتُ بِہِ أَسْمَائَ فَغَسَّلَتْہُ وَکَفَّنَتْہُ وَحَنَّطَتْہُ ثُمَّ دَفَنَتْہُ۔ قَالَ أَیُّوبُ وَأَحْسِبُ قَالَ : فَمَا عَاشَتْ بَعْدَ ذَلِکَ إِلاَّ ثَلاَثَۃَ أَیَّامٍ ثُمَّ مَاتَتْ زَادَ غَیْرُہُ فِیہِ : وَصَلَّتْ عَلَیْہِ۔ [صحیح۔ أخرجہ ابن ابی شیبہ]
(٦٨٢٢) ابن ابی ملیکہ بیان کرتے ہیں کہ میں اسماء بنت ابوبکر کے پاس عبداللہ بن زبیر کے قتل ہونے کے بعد گیا۔ وہ کہتے ہیں : عبد الملک کا خط آیا ۔ اس نے کہا : اس کی میت ان کے اہل کے حوالے کر دو ۔ میں اسے لے کر اسماء کے پاس آیا ۔ انھوں نے اسے غسل دیا ۔ کفن پہنایا اور خوشبولگائی، پھر دفن کردیا گیا۔ ایوب کہتے ہیں : میرا خیال ہے کہ راوی نے کہا کہ اس کے بعد وہ صرف تین دن زندہ رہا۔