hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 6842

.

سنن البيهقي

6842
Sunan Al Bayhaqi
(۶۸۴۲) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ کِنَانَۃَ بْنِ نُعَیْمٍ الْعَدَوِیِّ عَنْ أَبِی بَرْزَۃَ الأَسْلَمِیِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ فِی مَغْزًی لَہُ فَلَمَّا فَرَغَ مِنَ الْقِتَالِ قَالَ : ((ہَلْ تَفْقِدُونَ مِنْ أَحَدٍ؟))۔ قَالُوا : نَفْقِدُ وَاللَّہِ فُلاَنًا وَفُلاَنًا وَفُلاَنًا قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((انْظُرُوا ہَلْ تَفْقِدُونَ مِنْ أَحَدٍ؟))۔ قَالُوا : نَفْقِدُ فُلاَنًا وَفُلاَنًا قَالَ : ((لَکِنِّی أَفْقِدُ جُلَیْبِیبًا))۔ فَوَجَدُوہُ عِنْدَ سَبْعَۃٍ قَدْ قَتَلَہُمْ ، ثُمَّ قَتَلُوہُ فَأُتِیَ النَّبِیُّ -ﷺ- فَأُخْبِرَ فَانْتَہَی إِلَیْہِ فَقَالَ : ((قَتَلَ سَبْعَۃً ، ثُمَّ قَتَلُوہُ ، ہَذَا مِنِّی وَأَنَا مِنْہُ ، قَتَلَ سَبْعَۃً وَقَتَلُوہُ ، ہَذَا مِنِّی وَأَنَا مِنْہُ))۔ قَالَہَا مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلاَثًا ، ثُمَّ قَالَ بِذِرَاعَیْہِ ہَکَذَا فَبَسَطَہُمَا فَوُضِعَ عَلَی ذِرَاعَیِ النَّبِیِّ -ﷺ- حَتَّی حُفِرَ لَہُ فَما کَانَ لَہُ سَرِیرٌ إِلاَّ ذِرَاعَیِ النَّبِیِّ -ﷺ- حَتَّی دُفِنَ قَالَ وَمَا ذَکَرَ غُسْلاً۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عُمَرَ بْنِ سَلِیطٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم]
(٦٨٤٢) ابو برزہ اسلمی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک غزوے میں تھے۔ جب آپ لڑائی سے فارغ ہوئے تو فرمایا : کیا کسی کو گم پاتے ہو ؟ تو انھوں نے کہا : اللہ کی قسم ! ہم فلاں فلاں کو گم پاتے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لیکن میں جلیب کو نہیں پاتا تو صحابہ نے انھیں سات آدمیوں کے پاس پایا جنہیں اس نے قتل کیا تھا۔ پھر انھوں نے اسے قتل کردیا۔ اسے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لایا گیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خبر دی گئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے پاس آئے اور فرمایا : اس نے سات کو قتل کیا۔ پھر انھوں نے اسے قتل کردیا۔ یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں ۔ اس نے سات کو قتل کیا اور انھوں نے اسے قتل کردیا ۔ یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات دو یا تین مرتبہ فرمائی ۔ پھر انھوں نے اپنے بازؤں سے اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بازؤں کے علاوہ کوئی چارپائی نہیں تھی ۔ یہاں تک کہ اسے دفن کردیا گیا۔ راوی کہتے ہیں : ان کے غسل کا تذکرہ نہیں کیا۔