(۷۰) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ جَوْنِ بْنِ قَتَادَۃَ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ الْمُحَبَّقِ الْہُذَلِیِّ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ-قَالَ: ((دِبَاغُ الأَدِیمِ ذَکَاتُہُ))
(ق) وَفِی قِصَّۃِ الْحَدِیثِ دَلاَلَۃٌ عَلَی أَنَّہُ فِی جِلْدِ مَا یُؤْکَلُ لَحْمُہُ وَفِی طُرُقِہِ دَلاَلَۃٌ عَلَی أَنَّ الْمُرَادَ بِالذَّکَاۃِ طَہَارَتُہُ۔
(ت) وَفِی رِوَایَۃِ مُعَاذِ بْنِ ہِشَامٍ عَنْ أَبِیہِ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ: أَنَّہُ دَعَا بِمَائٍ مِنْ عِنْدَ امْرَأَۃٍ فَقَالَتْ: مَا عِنْدِی إِلاَّ فِی قِرْبَۃٍ لِی مَیْتَۃٍ۔فَقَالَ: ((أَلَیْسَ قَدْ دَبَغْتِہَا))قَالَتْ: بَلَی؟ قَالَ: ((فَإِنَّ ذَکَاتَہَا دِبَاغُہَا ))۔
[ضعیف۔ أخرجہ الدار قطنی ۱/۴۵]
(٧٠) (الف) سلمہ بن محبق ہذلی (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمایا : ” چمڑے کو رنگ دینا اس کا پاک کرنا ہے۔ “
اس حدیث میں حلال جانوروں کی کھال کے پاک ہونے کا ذکر ہے۔ اس کے طرق اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ ” ذکاۃ “ سے مراد طہارت ہے۔
(ب) معاذ بن ہشام اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک عورت سے پانی مانگا تو اس نے کہا : میرے پاس مردار کے چمڑے کا بنا ہوا مشکیزہ ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تو نے اسے رنگا نہیں تھا۔ اس عورت نے کہا : کیوں نہیں ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اس کا پاک کرنا اس کا رنگنا ہی ہے۔ “