(۶۹۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ بْنُ سُوَیْدٍ حَدَّثَنَا عِیسَی عَنْ سُلَیْمَانَ التَّیْمِیِّ عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ قَالَ : رَأَیْتُ ابْنَ عُمَرَ قَصَّ أَظْفَارَہُ فَقُلْتُ : أَلاَ تَتَوَضَّأُ؟ فَقَالَ : مِمَّ أَتَوَضَّأُ لأَنْتَ أَکْیَسُ فِی نَفْسِکَ مِمَّنْ سَمَّاہُ أَہْلُہُ کَیِّسًا۔
وَرُوِّینَا عَنِ الشَّعْبِیِّ أَنَّہُ قَالَ فِی الرَّجُلِ یَقُصُّ أَظْفَارَہُ بَعْدَ الْوُضُوئِ : ہُوَ طُہُورُہُ۔
وَعَنِ الْحَسَنِ : لَیْسَ فِیہِ وُضُوئٌ ۔ وَعَنْ عَطَائٍ : أَمْسِسْہُ الْمَائَ۔
وَعَنْ إِبْرَاہِیمَ کَذَلِکَ۔
وَعَنِ الزُّہْرِیِّ : إِنْ شَائَ مَسَحَ عَلَیْہِ بِمَائٍ ، وَإِنْ شَائَ تَرَکَ۔ [ضعیف]
(٦٩٣) (الف) ابومجلز سے روایت ہے کہ میں نے ابن عمر (رض) کو دیکھا، انھوں نے ناخن کاٹے، میں نے کہا : آپ وضو کیوں نہیں کرتے ؟ انھوں نے کہا : کس سے وضو کروں ؟ تم خود کو زیادہ عقلمند سمجھتے ہو اس لیے کہ تمہارے خاندان نے تمہارا نام عقلمند رکھا ہے ؟
(ب) شعبی سے روایت ہے : وہ اس شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جو اپنے ناخنوں کو وضو کے بعد کاٹتا ہے کہ یہ پاکیزگی (کا باعث) ہے۔
(ج) حسن کہتے ہیں : اس میں وضو نہیں ہے اور عطاء کہتے ہیں : اس کو پانی لگا یعنی وضو کر۔ زہری کہتے ہیں : اگر چاہے تو پانی سے اس پر مسح کرلے اور اگر چاہے تو چھوڑ دے۔