(۶۹۴۹) وَ أَخْبَرَنَا أَبُوطَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُوطَاہِرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَابَاذِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِالْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا یَعْلَی - یَعْنِی ابْنَ عُبَیْدٍ الطَّنَافِسِیَّ - حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ - وَہُوَ ابْنُ أَبِی خَالِدٍ - عَنْ عَامِرٍ قَالَ أَخْبَرَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبْزَی قَالَ : صَلَّیْتُ مَعَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَلَی زَیْنَبَ زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ- فَکَبَّرَ أَرْبَعًا ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَی أَزْوَاجِ النَّبِیِّ -ﷺ- مَنْ یُدْخِلَہَا قَبْرَہَا۔ وَکَانَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یُعْجِبُہُ أَنْ یُدْخِلَہَا قَبْرَہَا فَأَرْسَلْنَ إِلَیْہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُنَّ یُدْخِلُہَا قَبْرَہَا مَنْ کَانَ یَرَاہَا فِی حَیَاتِہَا قَالَ: صَدَقْنَ۔ [صحیح]
(٦٩٤٩) عبد الرحمن بن ابزی فرماتے ہیں کہ میں نے عمر (رض) کے ساتھ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیوی زینب کا جنازہ پڑھا تو انھوں نے چار تکبیرات پڑھیں، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویوں کی طرف پیغام بھیجا کہ انھیں قبر میں داخل کون کرے گا اور عمر (رض) پسند کرتے تھے کہ وہ انھیں قبر میں داخل کریں ؟ سو انھوں نے عمر (رض) کی طرف پیغام بھیجا کہ جس نے انھیں زندہ حالت میں دیکھا ہے وہ قبر میں داخل کرے۔ عمر (رض) نے کہا : انھوں نے سچ کہا۔