(۷۰۱۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَبِی رَافِعٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ : أَنَّ إِنْسَانًا کَانَ یَقُمُّ الْمَسْجِدَ أَسْوَدَ - قَالَ - فَمَاتَ أَوْ مَاتَتْ فَفَقَدَہَا النَّبِیُّ -ﷺ- فَقَالَ : ((مَا فَعَلَ الإِنْسَانُ الَّذِی کَانَ یَقُمُّ الْمَسْجِدَ؟)) فَقِیلَ: مَاتَ قَالَ : ((فَہَلاَّ آذَنْتُمُونِی بِہِ))۔ فَقَالُوا : إِنَّہُ کَانَ لَیْلاً قَالَ : ((فَدُلُّونِی عَلَی قَبْرِہَا))۔ - قَالَ - فَأَتَی الْقَبْرَ فَصَلَّی عَلَیْہَا۔ ثُمَّ قَالَ ثَابِتٌ عِنْدَ ذَاکَ أَوْ فِی حَدِیثٍ آخَرَ : ((إِنَّ ہَذِہِ الْقُبُورَ مَمْلُوئَ ۃٌ ظُلْمَۃً عَلَی أَہْلِہَا وَإِنَّ اللَّہَ تَعَالَی یُنَوِّرُہَا بِصَلاَتِی عَلَیْہَا))۔
وَالَّذِی یَغْلِبُ عَلَی الْقَلْبِ أَنْ تَکُونَ ہَذِہِ الزِّیَادَۃُ فِی غَیْرِ رِوَایَۃِ أَبِی رَافِعٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ فَإِمَّا أَنْ تَکُونَ عَنْ ثَابِتٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- مُرْسَلَۃً۔
کَمَا رَوَاہُ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَۃَ وَمَنْ تَابَعَہُ أَوْ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-
کَمَا رَوَاہُ خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ وَقَدْ رَوَاہُ غَیْرُ حَمَّادٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَبِی رَافِعٍ فَلَمْ یَذْکُرْہَا۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
(٧٠١٥) ابو ہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی مسجد کی صفائی کیا کرتا تھا وہ فوت ہوگیا یا ہوگئی۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے نہ پایا تو اسے فرمایا : اس انسان نے کیا کیا ؟ جو مسجد کی خدمت کیا کرتا تھا۔ کہا گیا کہ وہ فوت ہوچکا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نے مجھے کیوں نہ بتایا۔ انھوں نے کہا کہ رات تھی اس لیے۔ آپ نے فرمایا : مجھے اس کی قبر بتاؤ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی قبر پر آئے اور جنازہ پڑھا۔ پھر ثابت نے یہ بات بھی بیان کی کہ یہ قبریں اندھیرے سے بھری ہوتی ہیں ، اللہ تعالیٰ میری دعا سے انھیں منور کردیتا ہے۔