hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 7090

.

سنن البيهقي

7090
Sunan Al Bayhaqi
(۷۰۸۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ الْمُنَادِی حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَیْسَرَۃَ أَبُو حَاتِمٍ وَکَانَ یَنْزِلُ مَکَّۃَ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ قُرَّۃَ عَنْ أَبِیہِ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی قِصَّۃِ رَجُلٍ لَہُ بُنَیٌّ صَغِیرٌ یَأْتِیَانِ النَّبِیَّ -ﷺ- وَأَنَّ بُنَیَّہُ ہَلَکَ فَمَنَعَہُ الْحُزْنُ عَلَیْہِ أَنْ یَحْضُرَ الْحَلْقَۃَ فَلَقِیَہُ نَّبِیُّاللَّہِ -ﷺ- فَسَأَلَہُ عَنِ بُنَیِّہِ فَأَخْبَرَہُ : أَنَّہُ ہَلَکَ قَالَ فَعَزَّاہُ النَّبِیُّ -ﷺ- فَقَالَ : ((یَا فُلاَنُ أَیُّمَا کَانَ أَحَبَّ إِلَیْکَ أَنْ تُمَتَّعَ بِہِ عُمُرَکَ أَوْ لاَ تَأْتِیَ غَدًا بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّۃِ إِلاَّ وَجَدْتَہُ قَدْ سَبَقَکَ إِلَیْہِ فَفَتَحَہُ لَکَ))۔ قَالَ فَقَالَ : یَا نَبِیَّ اللَّہِ لاَ بَلْ یَسْبِقُنِی إِلَی أَبْوَابِ الْجَنَّۃِ أَحَبُّ إِلَیَّ قَالَ : ((فَذَاکَ لَکَ))۔ قَالَ : فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ : یَا نَبِیَّ اللَّہِ جَعَلَنِی اللَّہُ فِدَائَ کَ أَہَذَا لِہَذَا خَاصَّۃً أَوْ مَنْ ہَلَکَ لَہُ طِفْلٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ کَانَ ذَلِکَ لَہُ قَالَ: ((بَلْ مَنْ ہَلَکَ لَہُ طِفْلٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ کَانَ ذَلِکَ لَہُ))۔[صحیح۔ أخرجہ النسائی]
(٧٠٨٩) معاویہ بن قرۃ اپنے والد سے وہ حدیث نقل فرماتے ہیں جس میں اس شخص کا واقعہ ہے جس کے دو بیٹے تھے، وہ دونوں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور شہید ہوگئے ہیں اس غم نے مجلس میں آنے سے روک لیا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسے ملے اور اس کے بیٹوں کے بارے میں پوچھا تو اس نے آپ کو بتایا کہ وہ شہید ہوگئے ہیں تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی تعزیت کی اور فرمایا : ” اے فلاں ! تجھے کیا محبوب ہے یا تو اس سے عمر بھر نفع حاصل کرتا رہے یا جب تو جنت کے دروازے پر پہنچے تو یہ تجھ سے پہلے وہاں کھڑا ہو اور اسے تیرے لیے کھول دے۔ تو اس نے کہا : اللہ کے رسول ! نہیں بلکہ وہ مجھ سے جنت کے دروازے کی طرف سبقت لے جائییہ مجھے زیادہ محبوب ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیرے لیے وہی کچھ ہے۔ انصاریوں میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا اور عرض کیا : اے اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اللہ مجھے آپ پر قربان کرے کیا یہ نعمت اس بندے کے ساتھ خاص ہے یا پھر جس مسلمان کا بھی بچہ فوت ہوجائے اس کے لیے بھی ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بلکہ جس مسلمان کا بچہ بھی شہید ہوا اس کے لیے یہ اجر ہوگا۔