(۷۰۹۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنِی الَّلیثُ حَدَّثَنِی عُقَیْلٌ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّہَا کَانَتْ إِذَا مَاتَ مَیِّتٌ مِنْ أَہْلِہَا فَاجْتَمَعَ لِذَلِکَ النِّسَائُ ثُمَّ تَفَرَّقْنَ إِلاَّ أَہْلَہَا وَحَامَتَہَا أَمَرَتْ بِبُرْمَۃٍ مِنْ تَلْبِینَۃٍ فَطَبَخَتْ وَصَنَعَتْ ثَرِیدًا ، ثُمَّ صَبَّتِ التَّلْبِینَۃَ عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَتْ : کُلُوا مِنْہَا فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : ((التَّلْبِینَۃُ مَجَمَّۃ لِفُؤَادِ الْمَرِیضِ تَذْہَبُ بِبَعْضِ الْحُزْنِ))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ ابْنِ بُکَیْرٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ اللَّیْثِ۔ [صحیح۔ بخاری]
(٧٠٩٨) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ جب ان کے اہل میں سے کوئی فوت ہو جاتاتو اس کے لیے عورتیں اکٹھی ہوجاتیں، پھر وہ جدا ہوجاتیں، سوائے اس کے گھر والوں اور قریبی رشتہ داروں کے۔ پھر وہ تلبینے سے حریرہ بنانے کا حکم دیتیں، پھر اسے پکایا جاتا اور ثرید بنایا جاتا ، پھر اس پر تلبینہ ڈالتی اور کہتیں : اس میں سے کھاؤ۔ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے تھے کہ تلبینہ دل کے مریض کے لیے قوت کا باعث ہے اور کچھ غم کو بھی ہلکا کرتا ہے۔