hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 7177

.

سنن البيهقي

7177
Sunan Al Bayhaqi
(۷۱۷۶) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: الْحَسَنُ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَلِیمِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مَیْمُونٍ الصَّائِغُ بِمَرْوٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُوَجِّہِ أَخْبَرَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ قَالَ : تُوُفِّیَتِ ابْنَۃٌ لِعُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِمَکَّۃَ وَجِئْنَا لِنَشْہَدَہَا - قَالَ - وَحَضَرَہَا ابْنُ عُمَرَ وَابْنُ عَبَّاسٍ وَإِنِّی لَجَالِسٌ بَیْنَہُمَا - قَالَ - جَلَسْتُ إِلَی أَحَدِہِمَا ، ثُمَّ جَائَ الآخَرُ فَجَلَسَ إِلَی جَنْبِی فَقَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ لِعَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ : أَلاَ تَنْہَی النِّسَائَ عَنِ الْبُکَائِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((إِنَّ الْمَیِّتَ لَیُعَذَّبُ بِبُکَائِ أَہْلِہِ))۔ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : قَدْ کَانَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ بَعْضَ ذَلِکَ ، ثُمَّ حَدَّثَ قَالَ : صَدَرْتُ مَعَ عُمَرَ مِنْ مَکَّۃَ حَتَّی کُنَّا بِالْبَیْدَائِ إِذَا ہُوَ بِرَکْبٍ تَحْتَ ظِلِّ سَمُرَۃٍ فَقَالَ : اذْہَبْ وَانْظُرْ مِنْ ہَؤُلاَئِ الرَّکْبِ - قَالَ - فَنَظَرْتُ فَإِذَا ہُوَ صُہَیْبٌ فَأَخْبَرْتُہُ قَالَ: ادْعُہُ لِی فَرَجَعْتُ إِلَی صُہَیْبٍ فَقُلْتُ: ارْتَحِلْ فَالْحَقْ أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ۔ فَلَمَّا أُصِیبَ عُمَرُ دَخَلَ صُہَیْبٌ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا یَبْکِی یَقُولُ : وَاأَخَاہُ وَاصَاحِبَاہُ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : یَا صُہَیْبُ أَتَبْکِی عَلَیَّ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِنَّ الْمَیِّتَ لَیُعَذَّبُ بِبَعْضِ بُکَائِ أَہْلِہِ عَلَیْہِ))۔ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَلَمَّا مَاتَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ذَکَرْتُ ذَلِکَ لِعَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَقَالَتْ : رَحِمَ اللَّہُ عُمَرَ وَاللَّہِ مَا حَدَّثَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِنَّ اللَّہَ یُعَذِّبُ الْمُؤْمِنَ بِبُکَائِ أَہْلِہِ عَلَیْہِ وَلَکِنْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِنَّ اللَّہَ لَیَزِیدُ الْکَافِرَ عَذَابًا بِبُکَائِ أَہْلِہِ عَلَیْہِ))۔ قَالَ وَقَالَتْ عَائِشَۃُ : حَسْبُکُمُ الْقُرْآنَ {وَلاَ تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ أُخْرَی} قَالَ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ عِنْدَ ذَلِکَ : وَاللَّہُ أَضْحَکَ وَأَبْکَی قَالَ ابْنُ أَبِی مُلَیْکَۃَ : فَوَاللَّہِ مَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ شَیْئًا۔ لَفْظُ حَدِیثِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ المُبَارَکٍ وَحَدِیثُ عَبْدِ الرَّزَّاقِ بِمَعْنَاہُ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدَانَ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری]
(٧١٧٦) عبید اللہ بن ابی ملیکہ فرماتے ہیں کہ مکہ میں عثمان کی بیٹی فوت ہوگئی ، ہم اس میں حاضر ہونے کے لیے آئے تو ابن عمر اور ابن عباس (رض) بھی تشریف فرما تھے اور میں ان کے درمیان میں تھا ۔ فرماتے ہیں : میں ان میں سے ایک کے پاس بیٹھا ہوا تھا تو دوسرا بھی آیا اور میرے پہلو میں بیٹھ گیا تو عبداللہ بن عمر نے عمرو بن عثمان سے کہا : کیا تو عورتوں کو رونے سے منع نہیں کرتا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے تو ابن عباس (رض) نے کہا کہ عمر بھی ایسا ہی کچھ کہتے تھے پھر حدیث بیان کی کہ میں عمر (رض) کے ساتھ مکہ سے آیا، جب ہم بیداء مقام پر آئے تو وہ قافلے کے ساتھ ایک درخت کے نیچے تھے تو انھوں نے کہا : جاؤ دیکھو یہ قافلے والے کون ہیں ؟ وہ کہتے ہیں : میں نے دیکھا تو وہ صہیب (رض) تھے۔ میں نے انھیں بتایا تو انھوں نے کہا : اسے میرے پاس بلاؤ تو میں صہیب کے پاس آیا اور کہا کہ امیر المؤمنین کے پاس چلو۔ جب عمر شہید ہوئے تو صہیب (رض) روتے ہوئے داخل ہوئے اور وہ کہہ رہے تھے : ہائے میرے بھائی ! ہائے میرے ساتھی ! تو عمر (رض) نے کہا : اے صہیب ! کیا تو مجھ پر روتا ہے جب کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک میت کو گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہی تو ابن عباس نے کہا : جب عمر (رض) فوت ہوئے تو میں نے سیدہ عائشہ کے پاس اس بات کا تذکرہ کیا تو انھوں نے کہا : اللہ ان پر رحم کرے ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسے بیان نہیں کیا ، بیشک اللہ تعالیٰ میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیتا ہے ، بلکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک اللہ تعالیٰ کافر کے عذاب کو اس کے اہل کے رونے کی وجہ سے زیادہ کردیتا ہے۔ وہ کہتے ہیں : سیدہ (رض) نے فرمایا : تمہیں قرآن کافی ہے { وَلاَ تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ أُخْرَی } کوئی جان کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گی ۔ فرماتے ہیں تب ابن عباس (رض) نے فرمایا : اللہ ہی رلاتا اور ہنساتا ہے۔ ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں : اللہ کی قسم ! ابن عمر نے ایسا کچھ نہیں کہا۔