hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 7182

.

سنن البيهقي

7182
Sunan Al Bayhaqi
(۷۱۸۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ بْنِ یُوسُفَ الْحَافِظُ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : سُرَیْجُ بْنُ النُّعْمَانِ الْجَوْہَرِیُّ حَدَّثَنَا فُلَیْحُ بْنُ سُلَیْمَانَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ عُبَیْدِ بْنِ السَّبَّاقِ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کُنَّا مَقْدِمَ النَّبِیِّ -ﷺ- إِذَا حَضَرَ مِنَّا الْمَیِّتُ آذَنَّا النَّبِیَّ -ﷺ- فَحَضَرَہُ وَاسْتَغْفَرَ لَہُ حَتَّی إِذَا قُبِضَ انْصَرَفَ النَّبِیُّ -ﷺ- وَمَنْ مَعَہُ حَتَّی یُدْفَنَ ، وَرُبَّمَا قَعَدَ وَمَنْ مَعَہُ حَتَّی یُدْفَنَ ، وَرُبَّمَا طَالَ حَبْسُ ذَلِکَ عَلَی نَبِیِّ اللَّہِ -ﷺ- فَلَمَّا خَشِینَا مَشَقَّۃَ ذَلِکَ عَلَیْہِ قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ لِبَعْضٍ : لَوْ کُنَّا لاَ نُؤْذِنُ النَّبِیَّ -ﷺ- بِأَحَدٍ حَتَّی یُقْبَضَ فَإِذَا قُبِضَ آذَنَّاہُ وَلَمْ یَکُنْ عَلَیْہِ فِی ذَلِکَ مَشَقَّۃٌ وَلاَ حَبْسٌ فَفَعَلْنَا ذَلِکَ فَکُنَّا نُؤْذِنُہُ بِالْمَیِّتِ بَعْدَ أَنْ یَمُوتَ فَیَأْتِیہِ وَیُصَلِّی عَلَیْہِ ، وَرُبَّمَا انْصَرَفَ وَرُبَّمَا مَکَثَ حَتَّی یُدْفَنَ الْمَیِّتُ وَکُنَّا عَلَی ذَلِکَ حِینًا ، ثُمَّ قُلْنَا : لَوْ لَمْ نُشْخِصِ النَّبِیَّ -ﷺ- وَحَمَلْنَا جَنَازَتَنَا إِلَیْہِ حَتَّی یُصَلِّیَ عَلَیْہِ عِنْدَ بَیْتِہِ لَکَانَ ذَلِکَ أَرْفَقَ بِہِ فَفَعَلْنَا فَکَانَ ذَلِکَ الأَمْرُ إِلَی الْیَوْمِ۔ [ضعیف۔ أخرجہ أحمد]
(٧١٨١) ابو سعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آگے ہوئے جب کوئی میت آتی تو ہم آپ کو اطلاع کرتے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آتے اور اس کے لیے استغفار کرتے ۔ جب وہ فوت ہوجاتا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے ساتھی نہ جاتے جب تک اسے دفن نہ کردیا جاتا۔ کبھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے دفن ہوتے تک بیٹھ جاتے اور کبھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ٹھہرنا زیادہ ہوجاتا۔ جب ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مشقت سے ڈرے تو کچھ نہ کہا کہ کیوں نہ ہم آپ کو تب اطلاع کریں جب آدمی فوت ہوجائے ، پھر جب وہ فوت ہوجاتا تو ہم آپ کو اطلاع کرتے اور اس میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مشقت نہ ہوتی اور نہ ہی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو زیادہ رکنا پڑتا، پھر ہم آپ کو میت کے فوت ہونے کے بعد اطلاع دیتے ۔ آپ آتے اور جنازہ پڑھتے، کبھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چلے جاتے اور کبھی میت کے دفن تک رک جاتے۔ پھر ہم ایسے ہی کرتے رہے ۔ پھر ہم نے کہا : اگر ہم آپ کو زحمت نہ دیں اور جنازہ اٹھا کر آپ کی طرف لے جائیں اور آپ گھر کے پاس ہی اس کا جنازہ پڑھیں تو یہ آپ کے لیے زیادہ آسان ہوگا ۔ پھر ہم نے ایسا ہی کیا اور وہ معاملہ آج تک ایسے ہی ہے۔