(۷۱۸۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ شَیْبَانَ قَالَ : کَانَ الْحَسَنُ فِی جَنَازَۃِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ فَقَالَ أَشْعَثُ بْنُ سُلَیْمٍ الْعِجْلِیُّ : یَا أَبَا سَعِیدٍ إِنَّہُ لَیُعْجِبُنِی أَنَّ لاَ أَسْمَعُ فِی الْجَنَائِزِ صَوْتًا فَقَالَ : إِنَّ لِلْخَیْرِ أَہْلِینَ۔
وَرُوِّینَا عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِّ وَالْحَسَنِ الْبَصْرِیِّ وَسَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ وَإِبْرَاہِیمَ النَّخَعِیِّ : أَنَّہُمْ کَرِہُوا أَنَّ یُقَالَ فِی الْجَنَازَۃِ اسْتَغْفِرُوا لَہُ غَفَرَ اللَّہُ لَکُمْ۔ [صحیح۔ أخرجہ المؤلف]
(٧١٨٣) اسود بن شیبان فرماتے ہیں کہ حسن نصر بن انس کے جنازے میں تھے تو اشعث بن سلیم عجلی نے کہا : اے ابو سعید ! مجھے یہ بات پسند ہے کہ میں جنازہ میں کوئی آواز نہ سنوں تو انھوں نے کہا : تو خیر کا ہی اہل ہے۔
سعید بن مسیب ‘ حسن بصری ‘ سعید بن جبیر اور ابراہیم نخعی رحمہم اللہ نے ناپسند کیا ہے کہ جنازہ میں یہ کہا جائے اس کے لیے استغفار کرو، اللہ تمہیں معاف کرے۔