(۷۲۲۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَی
الرَّازِیُّ بِبُخَارَی أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیِّ حَدَّثَنَا ہَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ دِینَارٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی صَالِحٍ السَّمَّانِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَنْ آتَاہُ اللَّہُ مَالاً فَلَمْ یُؤَدِّ زَکَاتَہُ مُثِّلَ لَہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ شُجَاع أَقْرَعَ لَہُ زَبِیبَتَانِ یُطَوَّقُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ، ثُمَّ یَأْخُذُ بِلِہْزِمَتَیْہِ - یَعْنِی شِدْقَیْہِ - ثُمَّ یَقُولُ : أَنَا مَالُکَ أَنَا کَنْزُکَ))، ثُمَّ تَلاَ ہَذِہِ الآیَۃَ {لاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِینَ یَبْخَلُونَ بِمَا آتَاہُمُ اللَّہُ مِنْ فَضْلِہِ ہُوَ خَیْرًا لَہُمْ بَلْ ہُوَ شَرٌّ لَہُمْ سَیُطَوَّقُونُ مَا بَخِلُوا بِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ}
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْمَدِینِیِّ ، وَرَوَاہُ مَالِکٌ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ دِینَارٍ مَوْقُوفًا۔
وَرُوِیَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- مَرْفُوعًا۔ [صحیح۔ البخاری]
(٧٢٢٣) ابو ہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس کو اللہ نے مال دیا، پھر اس نے اس کی زکوۃ ادا نہ کی تو اس کے مال کو بڑے اژدھے کی مانند بنایا جائے گا ۔ جس کے دو ہونٹ ہوں گے تو وہ اس کا طوق بن جائے گا ۔ پھر وہ اس کے جبڑوں کو پکڑے گا اور کہے گا : میں تیرا مال ہوں میں تیرا خزانہ ہوں ۔ پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی : { لاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِینَ یَبْخَلُونَ بِمَا آتَاہُمُ اللَّہُ مِنْ فَضْلِہِ ہُوَ خَیْرًا لَہُمْ بَلْ ہُوَ شَرٌّ لَہُمْ سَیُطَوَّقُونُ مَا بَخِلُوا بِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ } کہ نہ خیال کریں وہ لوگ جو بخل کرتے ہیں اس مال میں جو اللہ نے اپنے فضل سے انھیں دیا ہے۔ وہ ان کے لیے بہتر ہے، نہیں بلکہ وہ تو ان کے لیے شر ہے۔ عنقریب وہ بخل کی وجہ سے قیامت کے دن گلے میں طوق پہنچائے جائیں گے ۔