(۷۲۶) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِی اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنِی زَیْدُ بْنُ جُبَیْرَۃَ بْنِ مَحْمُودِ بْنِ أَبِی جُبَیْرَۃَ الأَنْصَارِیُّ مِنْ بَنِی عَبْدِ الأَشْہَلِ عَنْ أَبِیہِ جُبَیْرَۃَ بْنِ مَحْمُودِ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ سَلاَمَۃَ بْنِ وَقْشٍ ، وَکَانَ آخِرَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- لاَ یَکُونُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ فَإِنَّہُ بَقِیَ بَعْدَہُ : أَنَّہُمَا دَخَلاَ وَلِیمَۃً ، وَسَلَمَۃُ عَلَی وُضُوئٍ ، فَأَکَلُوا ثُمَّ خَرَجُوا ، فَتَوَضَّأَ سَلَمَۃُ فَقَالَ لَہُ جُبَیْرَۃُ : أَلَمْ تَکُنْ عَلَی وُضُوئٍ ؟ قَالَ : بَلَی وَلَکِنِّی رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- وَخَرَجْنَا مِنْ دَعْوَۃٍ دُعِینَا لَہَا ، وَرَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَلَی وُضُوئٍ ، فَأَکَلَ ثُمَّ تَوَضَّأَ ، فَقُلْتُ لَہُ : أَلَمْ تَکُنْ عَلَی وُضُوئٍ یَا رَسُولَ اللَّہِ؟ قَالَ : ((بَلَی وَلَکِنَّ الأُمُورَ تَحْدُثُ وَہَذَا مِمَّا حَدَثَ)) ۔
وَإِلَی مِثْلِ ہَذَا ذَہَبَ الزُّہْرِیُّ وَہُو فِیمَا۔ [ضعیف۔ جدًا أخرجہ الحاکم ۳/۴۷۳]
(٧٢٦) سیدنا سلمہ بن سلامہ بن وقش (رض) کا طغری سے روایت ہے اور و ہی آخری صحابی ہیں انس بن مالک (رض) آخری نہیں تھے کیونکہ وہ ان کے بعد بھی زندہ رہے۔ دونوں حضرات ولیمہ کے لیے گئے۔ سلمہ (رض) باوضو تھے۔ انھوں نے کھانا کھایا، پھر نکلے تو سیدنا سلمہ (رض) نے وضو کیا۔ سیدنا جبیرہ نے ان سے کہا : کیا آپ کا وضو نہیں تھا ؟ انھوں نے کہا : کیوں نہیں ! لیکن میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھایا، پھر وضو کیا، میں نے ان سے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! کیا آپ کا وضو نہیں تھا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” کیوں نہیں، لیکن نئے احکام آتے رہتے ہیں اور یہ نیا حکم ہے۔ “