(۷۲۸۱) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَ حَدَّثَنَا حَرْمَلَۃُ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ ابْنَ أَبِی حَبِیبٍ حَدَّثَہُ عَنْ سِنَانِ بْنِ سَعْدٍ الْکِنْدِیِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((لاَ إِیمَانَ لِمَنْ لاَ أَمَانَۃَ لَہُ وَالْمُعْتَدِی فِی الصَّدَقَۃِ کَمَانِعِہَا))۔
کَذَا قَالَ سِنَانُ بْنُ سَعْدٍ وَکَذَلِکَ یَقُولُہُ سَعِیدُ بْنُ أَبِی أَیُّوبَ وَقَالَہُ أَیْضًا أَبُو صَالِحٍ عَنِ اللَّیْثِ۔ قَالَ الشَّیْخُ وَقَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِیُّ فِی رَجُلٍ وَجَبَتْ عَلَیْہِ الزَّکَاۃُ فَلَمْ یُزَکِّ حَتَّی ذَہَبَ مَالُہُ قَالَ : ہُوَ دَیْنٌ عَلَیْہِ حَتَّی یَقْضِیَہُ۔ [حسن لغیرہٖ۔ تقدم قبلہ]
(٧٢٨١) انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اس شخص کا ایمان نہیں جسے امانت کا پاس نہیں اور زکوۃ وصول کرنے میں زیادتی کرنے والا اسے رکنے والے کی مانند ہے۔
حسن بصری نے اس شخص کے بارے میں فرمایا، جس پر زکوۃ واجب ہوچکی، پھر اسے زکوۃ ادا نہ کی حتیٰ کہ اس کا مال ہلاک ہوگیا تو جب تک وہ زکوۃ ادا نہیں کرتا اس پر قرض ہے۔