(۷۲۸۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنُ السَّمَّاکُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ یَزِیدَ الْمُنَادِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ الطَّنَافِسِیُّ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ دُحَیْمٍ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِی غَرَزَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَیْدٍ عَنْ أَبِی ذَرٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : انْتَہَیْتُ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- وَہُوَ جَالِسٌ فِی ظِلِّ الْکَعْبَۃِ فَلَمَّا رَآنِی قَالَ : ((ہُمُ الأَخْسَرُونَ وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ))۔ - قَالَ - فَجِئْتُ حَتَّی جَلَسْتُ فَلَمْ أَتَقَارَّ أَنْ قُمْتُ فَقُلْتُ : مَنْ ہُمْ فِدَاکَ أَبِی وَأُمِّی؟ قَالَ: ((ہُمُ الأَکْثَرُونَ إِلاَّ مَنْ قَالَ بِالْمَالِ ہَکَذَا وَہَکَذَا - أَرْبَعَ مَرَّاتٍ - وَقَلِیلٌ مَا ہُمْ۔ مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ وَلاَ بَقَرٍ وَلاَ غَنَمٍ لاَ یُؤَدِّی زَکَاتَہَا إِلاَّ جَائَ تْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ أَعْظَمَ مَا کَانَتْ وَأَسْمَنَہُ تَنْطَحُہُ بِقُرُونِہَا وَتَطَؤُہُ بِأَخْفَافِہَا کُلَّمَا نَفِدَتْ أُخْرَاہَا عَادَتْ عَلَیْہِ أُولاَہَا حَتَّی یُقْضَی بَیْنَ النَّاسِ))۔
لَفْظُ حَدِیثِ وَکِیعٍ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ الأَعْمَشِ۔ [صحیح۔ أخرجہ المسلم]
(٧٢٨٤) ابو ذر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کعبے کے سائے میں تشریف فرما تھے۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے دیکھا تو فرمایا : رب کعبہ کی قسم وہ بہت نقصان اٹھانے والے ہیں۔ میں آپ کے پاس آ کر بیٹھ گیا اور کھڑا ہونے کے لیے نہ ٹھہرا اور میں نے کہا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر میرے ماں والد فداہوں وہ کون ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ زیادہ مال والے ، مگر جس نے اپنے مال کو ایسے ایسے خرچ کیا اور یہ بات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چار مرتبہ کہی اور فرمایا : وہ بہت کم ہیں کوئی اونٹوں والا یا گائے والا نہیں اور نہ ہی بکریوں والا جو ان کی زکوۃ ادا نہیں کرتا مگر وہ قیامت کے دن آئے گا ان کو لے کر آئے گا بڑی اور موٹی ہوں گی وہ اسے اپنے سینگوں سے چھیلیں گی اور اپنے پاؤں سے روندیں گی جب آخری ختم ہوجائے گی تو پہلی پلٹ آئے گی یہاں تک کہ لوگوں میں فیصلہ کردیا جائے گا۔