hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 7294

.

سنن البيهقي

7294
Sunan Al Bayhaqi
(۷۲۹۳) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو سَہْلِ بْنُ زِیَادٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْیَابِیُّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا بَقِیَّۃُ حَدَّثَنِی الْمَسْعُودِیُّ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا بَعَثَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مُعَاذًا إِلَی الْیَمَنِ أَمَرَہُ أَنْ یَأْخُذَ مِنَ الْبَقَرِ مِنْ کُلِّ ثَلاَثِینَ تَبِیعًا أَوْ تَبِیعَۃً جَذَعٌ أَوْ جَذَعَۃٌ ، وَمِنْ کُلِّ أَرْبَعِینَ بَقَرَۃً بَقَرَۃً مُسِنَّۃً فَقَالُوا : فَالأَوْقَاصُ قَالَ: مَا أَمَرَنِی فِیہَا بِشَیْئٍ وَسَأَسْأَلُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- إِذَا قَدِمْتُ عَلَیْہِ فَلَمَّا قَدِمَ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- سَأَلَہُ عَنِ الأَوْقَاصِ فَقَالَ : ((لَیْسَ فِیہَا شَیْئٌ))۔ وَقَالَ الْمَسْعُودِیُّ: وَالأَوْقَاصُ مَا دُونَ الثَّلاَثِینَ وَمَا بَیْنَ الأَرْبَعِینَ إِلَی السِّتِّینِ، فَإِذَا کَانَتْ سِتُّونَ فَفِیہَا تَبِیعَتَانِ، فَإِذَا کَانَتْ سَبْعُونَ فَفِیہَا مُسِنَّۃٌ وَتَبِیعٌ ، فَإِذَا کَانَتْ ثَمَانُونَ فَفِیہَا مُسِنَّتَانِ ، فَإِذَا کَانَتْ تَسْعَوْنَ فَفِیہَا ثَلاَثُ تَبَائِعَ قَالَ بَقِیَّۃُ قَالَ الْمَسْعُودِیُّ : الأَوْقَاصُ ہِیَ بِالسِّینِ الأَوْقَاسُ فَلاَ تَجْعَلْہَا بِصَادٍ۔[صحیح لغیرہٖ۔ دارقطنی]
(٧٢٩٣) عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے معاذ (رض) کو یمن بھیجا تو انھیں حکم دیا کہ وہ ہر تیس گائے میں سے ایک بچھڑایا بچھیا لیں جو جذعہ ہو اور ہر چالیس گائیوں میں سے مسنۃ تو انھوں نے کہا : اوقاص کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ تو اس نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھوں گا جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جاؤں گا، سو جب وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پاس آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس میں کچھ زکوۃ نہیں۔ مسعودی کہتے ہیں کہ اوقاص جو تیس اور چالیس کے درمیان اور یہ ساٹھ تک ہے جب ساٹھ ہوجائیں تو ساٹھ میں ایک بچھیا ہے اور جب ستر جائیں تو اس میں ایک مسنہ اور ایک بچھڑا ہے۔ جب اسی ہوجائیں تو دومسنہ ہیں اور جب نوے ہوجائیں تو اس میں تین بچھڑے ہیں۔ مسعودی کہتے ہیں : اوقاص سین سے اوق اس ہے تو اسے صاد سے نہ سمجھو۔