(۷۲۹۹) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ الأَنْصَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیلٍ الْخُزَاعِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُطَیَّنٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی الْعَنَزِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ - یَعْنِی الأَنْصَارِیَّ - حَدَّثَنِی أَبِی عَنْ ثُمَامَۃَ قَالَ حَدَّثَنِی أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ : أَنَّ أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لَمَّا اسْتُخْلِفَ بَعَثَہُ إِلَی الْبَحْرَیْنِ وَکَتَبَ لَہُ ہَذَا الْکِتَابَ : بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ ہَذِہِ فَرِیضَۃُ الصَّدَقَۃِ الَّتِی فَرَضَ اللَّہُ عَلَی الْمُسْلِمِینَ الَّتِی أَمَرَ بِہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَمَنْ سُئِلَہَا مِنَ الْمُسْلِمِینَ عَلَی وَجْہِہَا فَلْیُعْطِہَا، وَمَنْ سُئِلَ فَوْقَہَا فَلاَ یُعْطِہَا۔ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی فَرْضَ الإِبِلِ، وَمَا بَیْنَ أَسْنَانِہَا، ثُمَّ قَالَ: ((وَصَدَقَۃُ الْغَنَمِ فِی سَائِمَتِہَا ، فَإِذَا کَانَتْ أَرْبَعِینَ إِلَی عِشْرِینَ وَمِائَۃٍ فَفِیہَا شَاۃٌ ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَی عِشْرِینَ وَمِائَۃٍ إِلَی أَنْ تَبْلُغَ مِائَتَیْنِ فَفِیہَا شَاتَانِ ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَی مِائَتَیْنِ إِلَی ثَلاَثِمِائَۃٍ فَفِیہَا ثَلاَثُ شِیَاہٍ ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَی ثَلاَثِمِائَۃٍ فَفِی کُلِّ مِائَۃٍ شَاۃٌ، وَلاَ یُؤْخَذُ فِی الصَّدَقَۃِ ہَرِمَۃٌ ، وَلاَ ذَاتُ عَوَارٍ وَلاَ تَیْسٌ إِلاَّ أَنْ یَشَائَ الْمُصَدِّقُ، وَلاَ یُجْمَعُ بَیْنَ مُتَفَرِّقٍ وَلاَ یُفَرَّقُ بَیْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْیَۃَ الصَّدَقَۃِ ، وَمَا کَانَ مِنْ خَلِیطَیْنِ فَإِنَّہُمَا یَتَرَاجَعَانِ بَیْنَہَا بِالسَّوِیَّۃِ ، فَإِذَا کَانَتْ سَائِمَۃُ الرَّجُلِ نَاقِصَۃً مِنْ أَرْبَعِینَ شَاۃً فَلَیْسَ فِیہَا صَدَقَۃٌ إِلاَّ أَنْ یَشَائَ رَبُّہَا))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الأَنْصَارِیِّ وَقَدْ مَضَی سَائِرُ طُرُقِ ہَذَا الْحَدِیثِ وَمَضَی فِی کِتَابِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- الَّذِی کَانَ عِنْدَ آلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ نَحْوَ ہَذَا وَأَبْیَنَ مِنْ ذَلِکَ قَالَ فِیہِ : ((فَإِذَا کَانَتْ شَاۃٌ وَمِائَتَیْنِ فَفِیہَا ثَلاَثُ شِیَاہٍ حَتَّی تَبْلُغَ ثَلاَثَمِائَۃٍ ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَی ثَلاَثِمِائَۃِ شَاۃٌ فَلَیْسَ فِیہَا إِلاَّ ثَلاَثُ شِیَاہٍ حَتَّی تَبْلُغَ أَرْبَعَمِائَۃِ شَاۃٍ ، فَإِذَا بَلَغَتْ أَرْبَعَمِائَۃِ شَاۃٍ فَفِیہَا أَرْبَعُ شِیَاہٍ حَتَّی تَبْلُغَ خَمْسَمِائَۃٍ ، فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسَمِائَۃِ شَاۃٍ فَفِیہَا خَمْسُ شِیَاہٍ ۔ ثُمَّ ذَکَرَہَا ہَکَذَا مِائَۃً مِائَۃً حَتَّی بَلَغَ أَلْفًا قَالَ : ثُمَّ فِی کُلِّ مَا زَادَتْ مِائَۃَ شَاۃٍ شَاۃٌ))۔
(٧٢٩٩) حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ جب ابوبکر صدیق (رض) خلیفہ بنے تو انھیں بحرین کی طرف بھیجا اور یہ تحریر انھیں دی : بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ یہ فرضِ زکوۃ کا نصاب ہے جو اللہ نے مسلمانوں پر فرض کیا ہے اور جس کا اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا ہے مسلمانوں میں سے جس سے اس کے مطابق مطالبہ کیا جائے وہ اتنا ہی ادا کر دے اور جس سے اس سے زائد طلب کیا جائے وہ نہ دے۔ پھر اونٹوں کی زکوۃ کی حدیث بیان کی اور ان کی عمریں بیان کیں، پھر فرمایا : چرنے والی بکریوں میں زکوۃ اس طرح ہے : جب بکریوں کی تعداد چالیس سے ایک سو بیس ہوجائے تو اس میں ایک بکری ہے ، جب ایک سو بیس سے زیادہ ہوجائیں اور دو سو تک پہنچ جائیں تو اس میں دو بکریاں ہیں اور پھر تین سو تک تین بکریاں اور جب تین سو سے زائد ہوجائیں تو ہر سو میں ایک بکری ہے اور زکوۃ میں بوڑھی، عیب والی اور سانڈ (بکرا) نہ لیا جائے، مگر یہ کہ مصدق لینا پسند کرے اور جدا جدا چرنے والیوں کو جمع نہ کیا جائے اور اکٹھیوں کو جدا جدا نہ کیا جائے زکوۃ کے ڈر سے اور جو شراکت دار ہیں وہ آپس میں برابر برابر تقسیم کریں گے اور جب آدمی کی بکریاں چالیس سے کم ہوں گی تو ان میں کوئی زکوۃ نہیں مگر یہ کہ اس کا مالک مرضی سے دینا چاہے۔
اور جو تحریر آل عمر بن خطاب (رض) کے پاس تھی وہ بھی ایسی ہی تھی اور اس میں یہ کچھ وضاحت سے بیان کیا گیا ہے وہ یہ کہ جب بکریاں دو سو ایک ہوجائیں تو اس میں تین بکریاں ہیں ، تین سو تک اور جب تین سو سے ایک بکری زائد ہوگی تو چار سو تک اس میں تین بکریاں ہی ہوں گی اور جب چار سو مکمل ہوجائیں گی تو پانچ سو تک چار بکریاں ہوں گی اور جب پانچ سو بکریاں ہوجائیں تو اس میں پانچ بکریاں ہی ہوں گی پھر ایسے ہی سو سو کا تذکرہ کیا ہزار تک۔ سو سے جو زائد ہوں تو ہر سو پر ایک بکری ہوگی۔