(۷۳۰۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ ہِلاَلِ بْنِ خَبَّابٍ عَنْ مَیْسَرَۃَ أَبِی صَالِحٍ عَنْ سُوَیْدِ بْنِ غَفَلَۃَ قَالَ : سِرْتُ أَوْ قَالَ أَخْبَرَنِی مَنْ سَارَ مَعَ مُصَدِّقِ النَّبِیِّ -ﷺ- فَإِذَا فِی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- : ((أَنْ لاَ یِأْخُذَ مِنْ رَاضِعِ لَبَنٍ ، وَلاَ یُجْمَعُ بَیْنَ مُتَفَرِّقٍ وَلاَ یُفَرَّقُ بَیْنَ مُجْتَمِعٍ))۔ وَکَانَ إِنَّمَا یَأْتِی الْمِیَاہَ حِینَ تَرِدُ الْغَنَمُ فَیَقُولُ : أَدُّوا صَدَقَاتِ أَمْوَالِکُمْ قَالَ فَعَمَدَ رَجُلٌ مِنْہُمْ إِلَی نَاقَۃٍ کَوْمَائَ قَالَ قُلْتُ : یَا أَبَا صَالِحٍ مَا الْکَوْمَائُ قَالَ عَظِیمَۃُ السَّنَامِ - قَالَ - فَأَبَی أَنْ یَقْبَلَہَا قَالَ فَقَالَ : إِنِّی أُحِبُّ أَنْ تَأْخُذَ خَیْرَ إِبِلِی قَالَ فَأَبَی أَنْ یَقْبَلَہَا قَالَ : فَخَطَمَ لَہُ أُخْرَی دُونَہَا فَأَبَی أَنْ یَقْبَلَہَا ، ثُمَّ خَطَمَ لَہُ أُخْرَی دُونَہَا فَقَبِلَہَا وَقَالَ : إِنِّی آخِذُہَا وَأَخَافُ أَنْ یَجِدَ عَلَیَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : عَمَدْتَ إِلَی رَجُلٍ فَتَخَیَّرْتَ عَلَیْہِ إِبِلَہُ۔ [حسن۔ أخرجہ ابو داؤد]
(٧٣٠٤) سوید بن غفلہ (رض) فرماتے ہیں کہ مجھے اس نے خبر دی جو عامل کے ساتھ گیا تھا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں، جسے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا کہ وہ دودھ پلانے والا جانور نہ لے اور نہ ہی جدا جدا چرنے والیوں کو اکٹھا کرے اور نہ ہی اکٹھی چرنے والیوں کو جدا جدا کیا جائے تو وہ ان کے پاس پانی پلانے کی جگہ پر آتے اور انھیں کہتے، جب بکریاں وہاں آتیں کہ اپنے اموال کی زکوۃ ادا کرو۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی کو ماء اونٹنی کا قصد کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا : اے ابو صالح ! یہ کو ماء کیا ہے تو انھوں نے بتایا : عظیم کوہان والی۔ وہ کہتے ہیں، انھوں نے اسے لینے سے انکار کردیا تو اس نے کہا : میں چاہتا ہوں کہ تم میرے عمدہ اونٹوں میں سے لو مگر مصدق نے قبول کرنے سے انکار کردیا اور پھر اس نے دوسرا پیش کیا تو انھوں نے وہ لینے سے بھی انکار کردیا پھر اس نے تیسرا پیش کیا تو انھوں نے وہ قبول کرلیا اور کہا کہ میں لے تو رہا ہوں مگر میں ڈرتا ہوں کہ پیارے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرا مؤاخذہ نہ کریں اور کہیں کہ تو ایک ایسے شخص کے پاس گیا اور تو نے اسے اس کے اونٹوں میں اختیار دے دیا۔