(۷۳۱۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْکَارِزِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ عَنْ أَبِی عُبَیْدٍ قَالَ یَقُولُ : لاَ تَأْخُذْ خِیَارَ أَمْوَالِہِمِ خُذِ الشَّارِفَ وَہِیَ الْمُسِنَّۃُ الْہَرِمَۃُ وَالْبَکْرَ وَہُوَ الصَّغِیرُ مِنْ ذُکُورِ الإِبِلِ وَإِنَّہُ کَانَ فِی أَوَّلِ الإِسْلاَمَ قَبْلَ أَنْ یُؤْخَذَ النَّاسُ بِالشَّرَائِعِ۔
قَالَ الشَّیْخُ الْحَدِیثُ مُرْسَلٌ وَقَدْ یُتَصَوَّرُ عِنْدَنَا أَخْذُ الذُّکُورِ وَالصَّغَارِ وَالْمَعِیبَۃِ إِذَا کَانَتْ مَاشِیُتُہُ کُلُّہَا کَذَلِکَ۔[صحیح]
(٧٣١١) ابو عبید فرماتے ہیں کہ تو ان کے عمدہ مال میں سے وصول نہ کر بلکہ تو بوڑھی قبول کر اور بکر یعنی چھوٹی عمر والا اونٹ اور یہ شروع اسلام میں تھا ، اس سے پہلے کہ لوگ شریعت سیکھتے۔
شیخ فرماتے ہیں : یہ حدیث مرسل ہے ہمارے نزدیک یہ تصور کیا جاتا ہے کہ جب تمام مویشی عیب دارو مذکر ہوں تو مذکر، چھوٹے اور عیب دار کو ہی لے لیا جائے۔