(۷۳۳۰) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَیْلِیُّ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ عَنْ سُفْیَانَ بْنِ حُسَیْنٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : کَتَبَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- کِتَابَ الصَّدَقَۃِ فَلَمْ یُخْرِجْہُ إِلَی عُمَّالِہِ حَتَّی قُبِضَ فَقَرَنَہُ بِسَیْفِہِ فَعَمِلَ بِہِ أَبُو بَکْرٍ حَتَّی قُبِضَ ، ثُمَّ عَمِلَ بِہِ عُمَرُ حَتَّی قُبِضَ فَکَانَ فِیہِ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی صَدَقَۃِ الإِبِلِ وَصَدَقَۃِ الْغَنَمِ وَقَالَ : وَلاَ یُفَرَّقُ بَیْنَ مُجْتَمِعٍ وَلاَ یُجْمَعُ بَیْنَ مُتَفَرِّقٍ مَخَافَۃَ الصَّدَقَۃِ ، وَمَا کَانَ مِنْ خَلِیطَیْنِ فَإِنَّہُمَا یَتَرَاجَعَانِ بِالسَّوِیَّۃِ۔
وَرُوِّینَاہُ فِی حَدِیثِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ۔ [صحیح لغیرہٖ۔ معنی تخریجہ]
(٧٣٣٠) زہری سالم سے اور وہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زکوۃ کا نصاب تحریر کیا اور اسے ابھی اپنے عمال کی طرف نہیں نکالا تھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوگئی تو اس تحریر کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تلوار کے ساتھ باندھ دیا گیا۔ ابوبکر (رض) نے اسے نافذ کیا یہاں تک کہ وہ فوت ہوگئے، پھر اسی پر عمر (رض) نے عمل کیا۔ یہاں تک کہ وہ بھی فوت ہوگئے ۔ انھوں نے اونٹوں کی زکوۃ کی حدیث بیان کی اور بکریوں کی زکوۃ کی بھی اور فرمایا : اکٹھی چرنے والیوں کو کو یکجا نہ کیا جائے زکوۃ کے خوف سے اور جو شراکت دار ہیں وہ آپس میں برابری کریں گے۔