(۷۳۷۷) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِیِّ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مُکْرَمٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عُبَیْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ عُقَیْلٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَخْبَرَنِی عُبَیْدُاللَّہِ بْنُ عَبْدِاللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ أَخْبَرَہُ: لَمَّا تُوُفِّیَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بَعْدَہُ وَکَفَرَ مَنْ کَفَرَ مِنَ الْعَرَبِ قَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : یَا أَبَا بَکْرٍ کَیْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّی یَقُولُوا لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ۔ فَمَنْ قَالَ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ عَصَمَ مِنِّی مَالَہُ وَنَفْسَہُ إِلاَّ بِحَقِّہِ وَحِسَابُہُ عَلَی اللَّہِ))۔ قَالَ أَبُوبَکْرٍ: وَاللَّہِ لأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَیْنَ الصَّلاَۃِ وَالزَّکَاۃِ فَإِنَّ الزَّکَاۃَ حَقُّ الْمَالِ، وَاللَّہِ لَوْ مَنَعُونِی عَنَاقًا کَانُوا یُؤَدُّونَہَا إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- لَقَاتَلْتُہُمْ عَلَی مَنْعِہَا قَالَ عُمَرُ : فَوَاللَّہِ مَا ہُوَ إِلاَّ أَنْ رَأَیْتُ اللَّہَ قَدْ شَرَحَ صَدْرَ أَبِی بَکْرٍ لِلْقِتَالِ فَعَرَفْتُ أَنَّہُ الْحَقُّ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ بُکَیْرٍ، وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَیْبَۃَ عَنْ اللَّیْثِ وَقَالاَ: عِقَالاً۔
وَحَدِیثُ بَہْزِ بْنِ حَکِیمٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- : ((مَنْ أَعْطَاہَا مُؤْتَجِرًا فَلَہُ أَجْرُہَا وَمَنْ مَنَعَہَا فَإِنَّا آخِذُوہَا))۔ قَدْ مَضَی ذِکْرُہُ۔ [صحیح۔ معنی تخریجہ]
(٧٣٧٧) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد ابوبکر (رض) خلیفہ بنے۔ اہلِ عرب میں سے جس نے انکار کیا کیا۔ عمر (رض) نے کہا : اے ابوبکر ! تم لوگوں سے کیسے لڑائی کرو گے جب کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں حکم دیا گیا ہوں کہ لوگوں سے اتنی دیر تک لڑتا رہوں جب تک وہ لا الہ الا اللہ کا اقرار نہ کرلیں، سو جس نے لا الہ الا اللہ کا اقرار کرلیا ۔ اس نے مجھ سے اپنا مال اور جان بچا لی مگر اس کے حق کے ساتھ اور اس کا حساب اللہ پر ہے تو ابوبکر (رض) نے کہا : اللہ کی قسم ! جس نے نماز و زکوۃ میں فرق کیا میں اس سے لڑائی کروں گا۔ بیشک زکوۃ مال کا حق ہے، اللہ کی قسم ! اگر انھوں نے مجھ سے ایک بچہ بھی روکا جو وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں دیا کرتے تھے تو اس کے منع کرنے کی وجہ سے بھی میں ان سے لڑائی کروں گا۔ عمر (رض) نے کہا : اللہ کی قسم ! جو کچھ بھی وہ تھا میں دیکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے لڑائی کے لیے ابوبکر (رض) کے سینے کو کھول دیا تو میں نے جان لیا کہ وہ حق پر تھے۔ حضرت بہزبن حکیم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے اجر کے حصول کے لیے دیا اس کے لیے اجر ہوگا اور جس نے روک لیا میں اسے اس سے لینے والا ہوں۔