(۷۴۱۲) قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ وَحَدَّثَنَا نُعَیْمُ بْنُ حَمَّادٍ عَنِ ابْنِ الدَّرَاوَرْدِیِّ الْمَدَنِیِّ عَنْ أَبِی حَزَرَۃَ الْقَاصِ : یَعْقُوبَ بْنِ مُجَاہِدٍ عَنْ سَارِیَۃَ الْخُلْجِیِّ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : ((أَخْرِجُوا صَدَقَاتِکُمْ فَإِنَّ اللَّہَ قْدْ أَرَاحَکُمْ مِنَ الْجَبْہَۃِ وَالسَّجَّۃِ وَالْبَجَّۃِ))۔
وَفَسَّرَہَا أَنَّہَا کَانَتْ آلِہَۃً یَعْبُدُونَہَا فِی الْجَاہِلِیَّۃِ۔
قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ : وَہَذَا خِلاَفُ مَا فِی الْحَدِیثِ الأَوَّلِ وَالتَّفْسِیرُ فِی الْحَدِیثِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ أَیُّہُمَا الْمَحْفُوظُ۔
قَالَ الشَّیْخُ أَسَانِیدُ ہَذَا الْحَدِیثِ ضَعِیفَۃٌ وَفِی الأَحَادِیثِ الصَّحِیحَۃِ قَبْلَہُ کِفَایَۃٌ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔
[ضعیف۔ انظر الغریب]
(٧٤١٢) ساریہ خلجی (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنی زکوۃ نکالو بیشک اللہ نے تمہیں گدھے ‘ خچر اور باندی (غلام) کی زکوۃ سے آرام بخشا ہے۔ بعض نے اس کی تفسیر کی ہے کہ یہ جاہلیت کے بت تھے جن کو وہ پوجا کرتے تھے۔