(۷۴۱۸) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَی أَبُو طَاہِرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْجُوَینِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رَجَائِ ابْنِ السِّنْدِیِّ حَدَّثَنَا سُوَیْدُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَیْسَرَۃَ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّ أَبَا صَالِحٍ ذَکْوَانَ أَخْبَرَہُ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ
قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَا مِنْ صَاحِبِ ذَہَبٍ وَلاَ فِضَّۃٍ لاَ یُؤَدِّی مِنْہَا حَقَّہَا۔۔۔))۔ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی الْوَعِیدِ الَّذِی جَائَ فِی مَنْعِ حَقَّہَا وَحَقِّ الإِبِلِ وَالْبَقَرِ وَالغَنَمِ وَذَکَرَ فِی الإِبِلِ : وَمِنْ حَقِّہَا حَلْبُہَا یَوْمَ وِرْدِہَا۔ ثُمَّ قَالَ قِیلَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ فَالْخَیْلُ قَالَ ((الْخَیْلُ ثَلاَثَۃٍ: ہِیَ لِرَجُلٍ وِزْرٌ وَہِیَ لِرَجُلٍ أَجْرٌ وَہِیَ لِرَجُلٍ سِتْرٌ۔ فَأَمَّا الَّذِی ہِیَ لَہُ وِزْرٌ فَرَجُلٌ رَبَطَہَا رِیَائً وَفَخْرًا وَنِوَائً عَلَی أَہْلِ الإِسْلاَمِ فَہِیَ لَہُ وِزْرٌ۔ وَأَمَّا الَّتِی ہِیَ لَہُ سِتْرٌ فَرَجُلٌ رَبَطَہَا فِی سَبِیلِ اللَّہِ ، ثُمَّ لَمْ یَنْسَ حَقَّ اللَّہِ فِی ظُہُورِہَا وَلاَ رِقَابِہَا فَہِیَ لَہُ سِتْرٌ۔ وَأَمَّا الَّتِی ہِیَ لَہُ أَجْرٌ فَرَجُلٌ رَبَطَہَا فِی سَبِیلِ اللَّہِ لأَہْلِ الإِسْلاَمِ فِی مَرْجٍ أَوْ رَوْضَۃٍ فَمَا أَکَلَتْ مِنْ ذَلِکَ الْمَرْجِ وَالرَّوْضَۃِ مِنْ شَیْئٍ إِلاَّ کُتِبَ لَہُ عَدَدَ مَا أَکَلَتْ حَسَنَاتٍ ، وَکُتِبَ لَہُ عَدَدَ أَرْوَاثِہَا وَأَبْوَالِہَا حَسَنَاتٍ ، وَلاَ تَقْطَعُ طِوَلَہَا فَاسْتَنَّتْ شَرَفًا أَوْ شَرَفَیْنِ إِلإَّ کَتَبَ اللَّہُ لَہُ عَدَدَ آثَارِہَا وَأَبْوَالِہَا حَسَنَاتٍ وَلاَ مَرَّ بِہَا صَاحِبُہَا عَلَی نَہْرٍ فَشَرِبَتْ مِنْہُ وَلاَ یُرِیدُ أَنْ یَسْقِیَہَا إِلاَّ کَتَبَ اللَّہُ لَہُ عَدَدَ مَا شَرِبَتْ حَسَنَاتٍ)) قِیلَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ فَالْحُمُرُ؟ قَالَ : ((مَا أَنْزَلَ اللَّہُ عَلَیَّ فِی الْحُمُرِ شَیْئًا إِلاَّ ہَذِہِ الآیَۃَ الْفَاذَّۃَ الْجَامِعَۃَ {مَنْ یَعْمَلْ مَثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَرَہُ وَمَنْ یَعْمَلْ مَثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَرَہُ}))
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سُوَیْدِ بْنِ سَعِیدٍ۔
وَرَوَاہُ سُہَیْلُ بْنُ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِیہِ فَقَالَ فِی الْحَدِیثِ : ((وَلاَ یَنْسَی حَقَّ اللَّہِ فِی ظُہُورِہَا وَبُطُونِہَا فِی عُسْرِہَا وَیُسْرِہَا))۔ وَذَلِکَ لاَ یَدُلُّ عَلَی الزَّکَاۃِ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم]
(٧٤١٨) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو بھی سونے یا چاندی والا اس کی زکوۃ ادا نہیں کرتا۔۔۔ پھر اس میں وعید کی حدیث بیان کی اور اس کے منع کرنے کا حق اور اونٹ ‘ گائے اور بکری کے حقوق بیان کیے اور اونٹ کے حق میں بیان کیا کہ اس کا دوہناوارد ہونے کے دن ہے۔ کہا گیا ! اے اللہ کے رسول ! گھوڑا ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : گھوڑا تین طرح کا ہے : یہ آدمی کے لیے بوجھ بھی ہے ، اجر بھی ہے اور پردہ بھی۔ وہ جس کے لیے بوجھ ہے وہ ہے جسے آدمی نے دکھاوے اور فخر کے لیے باندھا اور اسلام کے خلاف مدد کے لیے۔ یہ اس کے لیے بوجھ ہے اور جو باعثِ پردہ ہے یہ وہ ہے جسے آدمی نے اللہ کی راہ میں باندھا، پھر اس کی پیٹھ میں اللہ کے حق کو نہ بھولا اور نہ ہی اس کی گردن میں تو یہ اس کے لیے پردہ ہے اور وہ جو اس کے لیے باعث اجر ہے۔ یہ وہ جسے آدمی نے اللہ کی راہ میں اہل اسلام کے لیے چراگاہ میں باندھاسو جو کچھ بھی وہ اس چراگاہ سے کھائے گا اس کے عوض اس کے لیے اسی قدر نیکیاں لکھی جائیں گی حتیٰ کہ اس کے بول وبراز کی بھی نیکیاں ہوں گی اور وہ توڑ کر اپنی رسی کو ایک یا دو ٹیلوں پر چڑھتا ہے تو اس کے قدموں کی نشانات اور بول وبراز کی بھی نیکیاں ہوں گی اور نہیں گزرتا اس کا مالک اس کے ساتھ کسی نہر سے مگر وہ اس سے پی لیتا ہے حالانکہ مالک کے پلانے کی نیت نہیں تھی ، مگر اللہ سبحانہ اتنی ہی جو اس نے پیا نیکیاں اس کے نامہ اعمال میں لکھتا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا گیا کہ گدھا ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھ پر گدھے کے بارے میں کوئی آیت نازل نہیں ہوئی، سوائے اس جامع آیت کے : { مَنْ یَعْمَلْ مَثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَرَہُ وَمَنْ یَعْمَلْ مَثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَرَہُ }
ایک روایت میں ہے کہ وہ اللہ کا حق اس کی پیٹھ اور گردن میں نہ بھولا اور نہ ہی تنگی و آسانی میں اور یہ بات زکوۃ پر دلالت نہیں کرتی