(۷۴۵۴) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُمَیْدٍ الرُّؤَاسِیُّ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ نَجِیحٍ السَّعْدِیِّ الْمَدَنِیِّ عَنْ بِشْرِ بْنِ عَاصِمٍ وَعُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَوْسٍ : أَنَّ سُفْیَانَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ الثَّقَفِیَّ کَتَبَ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَکَانَ عَامِلاً لَہُ عَلَی الطَّائِفِ فَکَتَبَ إِلَیْہِ : أَنَّ قِبَلَہُ حِیطَانًا فِیہَا کُرُومٌ وَفِیہَا مِنَ الْفِرْسِکِ وَالرُّمَّانِ مَا ہُوَ أَکْثَرُ غَلَّۃً مِنَ الْکُرُومِ أَضْعَافًا فَکَتَبَ إِلَیْہِ یَسْتَأْمِرُہُ فِی الْعُشْرِ فَکَتَبَ إِلَیْہِ عُمَرُ : أَنَّہُ لَیْسَ عَلَیْہَا عُشْرٌ قَالَ ہِیَ مِنَ الْعِضَاہِ کُلُّہَا فَلَیْسَ عَلَیْہَا عُشْرٌ۔
وَہَذَا قَوْلُ مُجَاہِدٍ وَالْحَسَنِ وَالنَّخْعِیِّ وَعَمْرِو بْنِ دِینَارٍ وَرُوِّینَاہُ عَنِ الْفُقَہَائِ السَّبَعَۃِ مِنْ تَابِعِی أَہْلِ الْمَدِینَۃِ۔ [ضعیف۔ علق اوعلیہ شیخ الالبانی]
(٧٤٥٤) بشر بن عاصم اور عثمان بن عبداللہ بن اوس فرماتے ہیں کہ سفیان بن عبداللہ ثقفی نے عمر (رض) کی طرف خط لکھا اور وہ طائف میں عامل تھے ۔ انھوں نے لکھا کہ یہاں کچھ باغات ہیں جن میں انگور اور انار ہیں جو انگور سے بھی زیادہ مقدار میں ہیں۔ انھوں نے لکھا کہ آپ سے ان کے عشر لینے کا مشورہ کرنا چاہتا ہوں تو عمر (رض) نے اسے لکھ بھیجا کہ ان میں کوئی عشر نہیں کیونکہ یہ اس کے کانٹے دار درخت (باڑ) ہیں، اس لیے ان میں عشر نہیں ہے۔