(۷۴۶۶) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ قَالَ : جَائَ کِتَابٌ مِنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ إِلَی أَبِی وَہُوَ بِمِنًی : أَنْ لاَ یأْخُذْ مِنَ الْخَیْلِ وَلاَ مِنَ الْعَسَلِ صَدَقَۃً۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَسَعْدُ بْنُ أَبِی ذُبَابٍ یَحْکِی مَا یَدُلُّ عَلَی أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- لَمْ یَأْمُرْہُ بِأَخْذِ الصَّدَقَۃِ مِنَ الْعَسَلِ وَإِنَّہُ شَیْئٌ رَآہُ فَتَطَوَّعَ لَہُ بِہِ أَہْلُہُ۔ وَقَالَ الزَّعْفَرَانِیُّ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الشَّافِعِیُّ: الْحَدِیثُ فِی أَنَّ فِی الْعَسَلِ الْعُشْرَ ضَعِیفٌ وَفِی أَنْ لاَ یُؤْخَذَ مِنْہُ الْعُشْرُ ضَعِیفٌ إِلاَّ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِالْعَزِیزِ۔ وَاخْتِیَارِی: أَنْ لاَ یُؤْخَذُ مِنْہُ لأَنَّ السُّنَنَ وَالآثَارَ ثَابِتَۃٌ فِیمَا یُؤْخَذُ مِنْہُ وَلَیْسَتْ فِیہِ ثَابِتَۃٌ فَکَأَنَّہُ عَفْوٌ۔[ضعیف۔ أخرجہ مالک]
(٧٤٦٦) حضرت مالک عبداللہ بن ابی بکر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ عمر بن عبد العزیز (رح) کی طرف سے ایک تحریر میرے والد کے پاس آئی ، اس وقت وہ منیٰ میں تھے کہ گھوڑے اور شہد سے زکوۃ نہ لی جائے۔
امام شافعی فرماتے ہیں کہ سعد بن ابی ذباب کی روایت اس پر دلالت کرتی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شہد کی زکوۃ وصول کا حکم نہیں دیا ، بلکہ یہ ایک ایسی چیز ہے جس کے متعلق سوچا گیا کہ اس میں زکوۃ ہونی چاہیے، پھر یہ اضافی لوگوں پر مقرر کی گئی ہے۔ زعفرانی کہتے ہیں کہ امام شافعی (رح) نے کہا ہے کہ جس حدیث میں یہ ہے کہ شہد میں زکوۃ ہے وہ ضعیف ہے اور جس میں ہے کہ عشر نہ لیا جائے وہ بھی ضعیف ہے۔