(۷۴۹۰) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی بَکْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ الصَّیْرَفِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِیُّ قَالَ سَمِعْتُ عَلِیَّ بْنَ الْمَدِینِیِّ یَقُولُ : تَرَکَ مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ الرِّوَایَۃَ عَنِ ابْنِ أَبِی ذُبَابٍ فَلَیْسَ فِی کتبِہِ ذِکْرُہُ وَلَمْ یَرْوِ عَنْہُ شَیْئًا
قَالَ وَحَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ الأَشْجَعِیُّ حَدَّثَنِی الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی ذُبَابٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ وَبُسْرِ بْنِ سَعِیدٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((فِیمَا سَقَتِ السَّمَائُ الْعُشْرُ ، وَفِیمَا سُقِیَ بالنَّضْحِ نِصْفُ الْعُشْرِ))۔
قَالَ عَاصِمٌ حَدَّثَنَا مَالِکٌ قَالَ خُبِّرْتُ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ وَبُسْرِ بْنِ سَعِیدٍ وَتَرَکَ ابْنَ أَبِی ذُبَابٍ لِلْمُنْکَرَاتِ الَّتِی فِی رِوَاَیَتِہِ۔
قَالَ الشَّیْخُ ہَذَا الْحَدِیثُ مُسْتَغْنٍ عَنْ رِوَایَۃِ ابْنِ أَبِی ذُبَابٍ فَقَدْ رُوِّینَاہُ بِإِسْنَادَیْنِ صَحِیحَیْنِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَبِإِسْنَادٍ صَحِیحٍ عَنْ جَابِرِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَہُوَ قَوْلُ الْعَامَّۃِ لَمْ یَخْتَلِفُوا فِیہِ وَحَدِیثُ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ قْدَّ مَضَی ذِکْرُہُ۔ [صحیح]
(٧٤٩٠) ابراہیم بن اسحاق حربی فرماتے ہیں کہ میں نے علی بن مدینی سے سنا کہ مالک بن انس نے ایک روایت ابن ابی ذباب سے نقل کی ہے اور اس کی تحریر میں اس کا ذکر نہیں اور نہ ہی انھوں نے اس سے کچھ بھی بیان کیا۔ [صحیح۔
ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس زمین کو آسمان پانی پلائے اس میں عشر ہے اور جسے رہٹ (کنویں) وغیرہ سے پلایا جائے اس میں نصف عشر ہے۔
شیخ فرماتے ہیں : یہ حدیث ابن ابی ذباب کی سند کی محتاج نہیں، ہم نے اسے دو صحیح اسناد سے بیان کیا ہے جو ابن عمر (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرماتے ہیں اور جابر بھی۔ یہ عام قول ہے اور اس میں کوئی اختلاف نہیں۔
عاصم فرماتے ہیں : مجھے مالک نے فرمایا کہ مجھے سلیمان بن یسار اور بسر بن سعید نے خبر دی اور ابن ابی ذباب نے ان منکرروایات کو ترک کردیا۔