(۷۵۰۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ حَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ مُجَاہِدٍ فِی قَوْلِہِ تَعَالَی {وَآتُوا حَقَّہُ یَوْمَ حَصَادِہِ} قَالَ : عِنْدَ الزَّرْعِ تُعْطَی مِنْہُ الْقُبَضُ وَہِیَ ہَکَذَا وَأَشَارَ بِأَطْرَافِ أَصَابِعِہِ کَأَنَّہُ یُنَاوِلُ بِہَا ، وَعِنْدَ الصِّرَامِ یُعْطَی الْقُبَضُ وَہِیَ ہَکَذَا وَأَشَارَ بِکَفِّہِ کَأَنَّہُ یَقْبِضُ بِہَا یَقُولُ : یُعْطِی الْقُبْضَۃُ قَالَ وَیَتْرُکُہُمْ یَتَّبِعُونِ آثَارَ الصِّرَامِ۔ وَذَہَبَ جَمَاعَۃٌ إِلَی أَنَّہَا صَارَتْ مَنْسُوخَۃً بِالزَّکَاۃِ الْمَفْرُوضَۃِ۔ [صحیح۔ رجالہ ثقات]
(٧٥٠٧) ابن ابی نجیح مجاہد سے فرمانِ الٰہی وآتو حقہ یوم حصادہ کہ اس سے مراد نقل فرماتے ہیں : فصل کاٹنے کے دن اس میں سے دینا اور ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ ایک چلو یا دو ، گویا کہ وہ کوئی چیز دے رہے ہیں فصل کاٹنے کے وقت ایک مٹھی یا دو مٹھی دینا وہ اپنے ہاتھ سے اشارہ کر رہے تھے جیسے کوئی چیز پکڑ رہے ہوں ، وہ کہتے کہ ایک مٹھی دیتے اور انھیں چھوڑ دیتے اور وہ فصل کاٹنے والے اثرات کے پیچھے چلتے ۔ ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ یہ آیت زکوۃ فرض ہونے سے منسوخ ہوچکی ہے۔