(۷۵۱۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ شَوْذَبٍ حَدَّثَنَا شُعَیْبُ بْنُ أَیُّوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَنْصَارِیُّ حَدَّثَنِی أَبِی : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنِی ثُمَامَۃُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَنَسٍ أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَہُ : أَنَّ أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَتَبَ ہَذَا الْکِتَابَ لَمَّا وَجَّہَہُ إِلَی الْبَحْرَیْنِ۔ بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ ہَذِہِ فَرَائِضُ الصَّدَقَۃِ الَّتِی فَرَضَ اللَّہُ عَلَی الْمُسْلِمِینَ الَّتِی أَمَرَ اللَّہُ بِہَا رَسُولَہُ -ﷺ- فَمَنْ سُئِلَہَا مِنَ الْمُسْلِمِینَ عَلَی وَجْہِہَا فَلْیُعْطِہَا وَمَنْ سُئِلَ فَوْقَہَا فَلاَ یُعْطِ۔ قَالَ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ إِلَی آخِرِہِ وَفِیہِ : وَفِی الرِّقَۃِ رُبُعُ الْعُشْرِ ، فَإِذَا لَمْ یَکُنْ إِلاَّ تِسْعِینَ وَمِائَۃً فَلَیْسَ فِیہَا صَدَقَۃٌ إِلاَّ أَنْ یَشَائَ رَبُّہَا ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الأَنْصَارِیِّ۔ [صحیح۔ معنیٰ]
(٧٥١٩) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ ابوبکر صدیق (رض) نے جب انھیں بحرین کی طرف روانہ کیا تو یہ تحریر انھیں دی : بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ ۔ یہ زکوۃ کا وہ نصاب ہے جو اللہ نے اہل اسلام پر فرض کی ہے اور جس کا اللہ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا ۔ سو جس سے اس کے مطابق زکوۃ طلب کی جائے وہ ادا کر دے اور جس سے اس مقدار (نصاب) سے زیادہ کا مطالبہ کیا جائے وہ ادا نہ کرے اور آخر تکپوری حدیث بیان کی اور فرمایا : چاندی میں چوتھائی عشر ہے ، جب وہ ایک سو نوے ہو تو اس میں زکوۃ نہیں مگر جو اس کا مالک دینا چاہے۔