(۷۵۲۷) وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ السَّعْدِیُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَنَسٍ الْقُرَشِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ النَّبِیلُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِیدِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنِی صَالِحُ بْنُ أَبِی عَرِیبٍ عَنْ کَثِیرِ بْنِ مُرَّۃَ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَمَعَہُ عَصًا ، فَإِذَا أَقْنَائٌ مُعَلَّقَۃٌ قِنْوٌ مِنْہَا حَشَفٌ فَطَعَنَ فِی ذَلِکَ الْقِنْوِ وَقَالَ : ((مَا ضَرَّ صَاحِبَ ہَذِہِ لَوْ تَصَدَّقَ بِأَطْیَبَ مِنْ ہَذِہِ۔ إِنَّ صَاحِبَ ہَذِہِ لَیَأْکُلُ الْحَشَفَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ))۔ ثُمَّ قَالَ : ((وَاللَّہِ لَتَدَعُنَّہَا مُذَلَّلَۃً أَرْبَعِینَ عَامًا لِلْعَوَافِی))۔ ثُمَّ قَالَ : ((أَتَدْرُونَ مَا الْعَوَافِی؟))۔ قَالُوا : اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ قَالَ : ((الطَّیْرُ وُالسِّبَاعُ))۔
[حسن۔ ابو داؤد]
(٧٥٢٧) عوف بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نکلے اور آپ کے ہاتھ میں عصا تھا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کچھ لٹکتے ہوئے خوشے دیکھے تو ان کو عصا مبارک لگایا اور فرمایا : اس مال والے کو کوئی نقصان نہیں ۔ اگر وہ ان میں سے عمدہ کا صدقہ کرے۔ ان کا مالک قیامت کے دن گھٹیا کھجوریں کھائے گا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کی قسم ! چالیس سال کے بعد تم انھیں پرندوں اور دونوں کے لیے چھوڑ دو گے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو ، عوافی کیا ہے ؟ تو انھوں نے کہا : اللہ ورسولہ اعلم تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس سے مراد پرندے اور درندے ہیں۔