(۷۵۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا قَبِیصَۃُ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : دَعَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِمَائٍ وَتَوَضَأْ مَرَّۃً مَرَّۃً وَنَضَحَ۔
قَالَ الإِمَامُ أَحْمَدُ : قَوْلُہُ : وَنَضَحَ۔ تَفَرَّدَ بِہِ قَبِیصَۃُ عَنْ سُفْیَانَ ، وَرَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنْ سُفْیَانَ دُونَ ہَذِہِ الزِّیَادَۃِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ الدارمی ۷۱۱]
(٧٥٧) (الف) سیدنا ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پانی منگوایا اور ایک ایک مرتبہ وضو کیا (یعنی اعضاء ایک ایک مرتبہ دھوئے) اور چھینٹے مارے۔
(ب) امام احمد (رح) فرماتی ہیں کہ نضح کے الفاظ سفیان سے بیان کرنے میں قبیصہ متفرد ہے، ایک جماعت نے اس حدیث کو سفیان سے اس زیادتی کے بغیر روایت کیا ہے۔ واللہ اعلم۔