(۷۶۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی بْنِ فَارِسٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَزِیدَ الْمُقْرِئُ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِیَادٍ عَنْ أَبِی غُطَیْفٍ الْہُذَلِیِّ قَالَ : کُنْتُ عِنْدَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ فَلَمَّا نُودِیَ بِالظُّہْرِ تَوَضَّأَ فَصَلَّی ، فَلَمَّا نُودِیَ بِالْعَصْرِ تَوَضَّأَ فَقُلْتُ لَہُ فَقَالَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : ((مَنْ تَوَضَّأَ عَلَی طُہْرٍ کَتَبَ اللَّہُ لَہُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ))۔
قَالَ أَبُو دَاوُدَ : ہَذَا حَدِیثُ مُسَدَّدٍ وَہُوَ أَتَمُّ ، وَأَنَا لِحَدِیثِ ابْنِ یَحْیَی أَتْقَنُ۔
قَالَ الشَّیْخُ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِیَادٍ الأَفْرِیقِیُّ غَیْرُ قَوِیٍّ وَہَذَا حَدِیثٌ مُنْکَرٌ۔ [ضعیف۔ أخرجہ ابو داؤد ۶۲]
(٧٦٢) ابو غطیف ہذلی کہتے ہیں کہ جب میں سیدنا عبداللہ بن عمر (رض) کے پاس تھا ، ظہر کی اذان ہوئی، انھوں نے وضو کیا اور نماز پڑھی۔ جب عصر کی اذان ہوئی تو انھوں نے (نیا) وضو کیا۔ میں نے ان سے کہا : آپ نے دوبارہ وضو کیوں کیا ؟ انھوں نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتی تھے : جس نے طہارت (وضو) پر وضو کیا تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے دس نیکیاں لکھ دیتا ہے۔
(ب) امام ابوداؤد کہتے ہیں کہ حدیثِ مسدد مکمل ہے، لیکن میرے نزدیک حدیث ابن یحییٰ زیادہ قوی ہے۔
(ج) شیخ فرماتے ہیں کہ عبدالرحمن بن زیادہ افریقی قوی نہیں ، یہ حدیث منکر ہے۔