(۷۶۲۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْکَارِزِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ قَالَ قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ فِی حَدِیثِ عَلِیٍّ فِی الرَّجُلِ یَکُونُ لَہُ الدَّیْنُ الظَّنُونُ قَالَ : یُزَکِّیہِ لَمَّا مَضَی إِذَا قَبَضَہُ إِنْ کَانَ صَادِقًا۔
حَدَّثَنَاہُ یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ عَنْ ہِشَامٍ عَنِ ابْنِ سِیرِینَ عَنْ عَبِیدَۃَ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔
وَقَالَ أَبُو عُبَیْدٍ قَوْلُہُ الظَّنُونُ : ہُوَ الَّذِی لاَ یَدْرِی صَاحِبُہُ أَیَقْضِیہِ الَّذِی عَلَیْہِ الدَّیْنُ أَمْ لاَ کَأَنَّہُ الَّذِی لاَ یَرْجُوہُ۔ [صحیح۔ ذکرہ ابو عبید]
(٧٦٢٣) علی بن عبد العزیز فرماتے ہیں کہ ابو عبیدہ نے حدیث علی میں بیان کیا جو انھوں نے ایسے شخص کے متعلق بیان کی جو ایسا مقروض ہے جس کو قرض ملنے کی امید ہے تو انھوں نے کہا : اگر وہ سچا ہے تو جب اس کے قبضے میں مال آئے گا، تب اس کی زکوۃ ادا کرے گا۔
’ الظنون ‘ سے مراد وہ قرض ہے جس کے بارے میں انسان جانتا نہیں کہ وہ حاصل ہوگا یا نہیں گویا کہ وہ ناامید ہے۔